حیات طیبہ — Page 84
84 قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقات اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔شرائط بیعت کے اعلان میں تاخیر کا سبب شرائط بیعت کے اعلان میں تاخیر کا سبب بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس فرماتے ہیں: ”یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لئے ضروری ہیں۔جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمین دس ماہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب و یابس لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو جائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور جو کچے اور سریع اتغیر اور مغلوب الشک نہیں ہیں اس وجہ سے ایک ایسی تقریب کی انتظار رہی کہ جو سچوں اور کچوں اور مخلصوں اور منافقوں میں فرق کر کے دکھلاوے سو اللہ جل شانہ نے اپنی کمال حکمت اور رحمت سے وہ تقریب بشیر احمد اے کی موت کو قرار دے دیا اور خام خیال اور کچوں اور بدظنوں کو الگ کر کے دکھا دیا اور وہی ہمارے ساتھ رہ گئے جن کی فطرتیں ہمارے ساتھ رہنے کے لائق تھیں اور جو فطر کا قوی الایمان نہیں تھے اور تھکے اور ماندے تھے وہ سب ہلاک ہو گئے اور شکوک و شبہات میں پڑگئے پس اسی وجہ سے ایسے موقع پر دعوت بیعت کا مضمون شائع کرنا نہایت چسپاں معلوم ہوا۔تاخس کم جہاں پاک کا فائدہ ہم کو حاصل ہوا اور مغشوشین کے بد انجام کی تلخی اُٹھانی نہ پڑے اور تا جو لوگ اس ابتلاء کی حالت میں اس دعوت بیعت کو قبول کر کے اس سلسلہ مبارکہ میں داخل ہو جائیں وہی ہماری جماعت سمجھے جائیں اور وہی ہمارے خالص دوست متصور ہوں اور وہی ہیں جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں انہیں ان کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت ان کے شامل حال رہے گی اور مجھے فرمایا کہ تو میری اجازت سے اور میری آنکھوں کے روبرو یہ کشتی تیار کر۔جولوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ خدا سے بیعت کریں گے۔خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ حاضر ہو جاؤ اور اپنے رب کریم کو اکیلامت چھوڑ و جو شخص اسے اکیلا چھوڑتا ہے وہ اکیلا چھوڑ جائے گا۔‘سے اے بشیر احمد سے مراد بشیر اول ہیں جو صلح موعود والی پیشگوئی کے بعد پیدا ہو کر یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو وفات پاگئے۔سے اشتہار ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء