حیات طیبہ — Page 71
71 یہ اشتہار میں ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا اور دنیا بھر کے بادشاہوں، وزیروں اور مذہبی لیڈروں کو بھجوایا گیا اور انہیں دعوت دی گئی کہ اگر انہیں اسلام کی حقانیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے بارہ میں کوئی شبہ ہو یا الہام یا ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی اعتراض ہو یا قرآن کریم کی فضیلت کے متعلق کوئی بات دل میں کھٹکتی ہو تو وہ آپ کے پاس آکر یا بذریعہ خط و کتابت اپنی تسلی کر لیں۔ساتھ ہی اعلان دعوت کے نام سے آپ نے ایک خط بھی شائع فرما یا جس میں ہندوستان و پنجاب کے مختلف مذاہب کے لیڈروں کو نشان نمائی کی دعوت دی گئی۔جس میں لکھا کہ دو اگر آپ آویں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دوسو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا۔اے حضرت اقدس فرماتے ہیں: ہر چند ہم نے تمام ہندوستان و پنجاب کے پادری صاحبان و آریہ صاحبان کی خدمت میں اس مضمون کے خط رجسٹری کرا کر بھیجے۔مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے بلکہ منشی اندرمن صاحب کے لئے تو مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد لاہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کر کے فرید کوٹ چلے گئے۔ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھرام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق بلکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے ہم سے بحساب ماہوار لینا کر کے ایک سال تک ٹھہرو اور اخیر پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہر و تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا۔“ اپنے چچازاد بھائیوں کے اہل وعیال کی نسبت پیشگوئی ۵ اگست ۱۸۸۵ء اپنے چچا زاد بھائیوں مرزا امام الدین و نظام الدین کے مطالبہ اور اصرار پر کہ ہمیں کوئی نشان دکھلایا جاوے۔حضرت اقدس نے ۵/اگست ۱۸۸۵ء کو یہ پیشگوئی کی کہ: ”مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس ماہ تک ان پر ایک سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان کے اہل وعیال میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہو جائے گا جس سے ان کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب سے جو تئیس ساون ۱۹۴۲ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۲ و حیات احمد جلد دوم نمبر سوم صفحہ ۱۱۶ سے اشتہار صداقت انوار تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۷۷