حیات طیبہ — Page 70
70 سے ذہن نشین کرا دیا تھا کہ اس جہان میں کا ملین کو بعض صفات الہیہ جمالی یا جلالی متمثل ہوکر دکھلائی جاتی ہیں پھر حضرت نے مجھے فرمایا کہ آپ کے کپڑوں پر بھی کوئی قطرہ گرا۔میں نے اپنے کپڑے ادھر اُدھر سے دیکھ کر عرض کیا کہ حضرت میرے پر تو کوئی قطرہ نہیں ہے۔فرمایا اپنی ٹوپی پر ( جو سفید مکمل کی تھی ) دیکھو۔میں نے ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا۔مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی کہ میرے پر بھی ایک قطرہ خدا کی روشنائی کا گرا۔اس عاجز نے وہ گرتہ جس پر سرخی گری تھی تبر کا حضرت اقدس سے باصرار لے لیا۔اس عہد پر کہ میں وصیت کر جاؤں گا کہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جائے کیونکہ حضرت اقدس اس وجہ سے اُسے دینے سے انکار کرتے تھے کہ میرے اور آپ کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنالیں گے اور اس کی پوجا شروع ہو جائے گی غرضکہ بہت رد و قدح کے بعد دیا جو میرے پاس اس وقت تک موجود ہے اور سُرخی کے نشان اس وقت تک بلا کم و کاست بعینہ موجود ہیں۔“ اے راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ کی وفات ۷ اکتو بر ۱۹۲۷ء کو ہوئی۔جب آپ کو غسل دیا گیا۔تو وہ گرتہ آپ کی وصیت کے مطابق پہنا دیا گیا اور خاکسار بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہے جن کو وہ گر نہ دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔فالحمد للہ علی ذلک۔دعوت نشان نمائی اور اعلان مجد دمت و ماموریت ۱۸۸۵ء کے شروع میں آپ نے مختلف مذاہب کے لیڈروں اور پیشواؤں کو اسلام کی تازہ بتازہ برکات اور آیات کے دیکھنے کی دعوت دی اس غرض کے لئے آپ نے اپنے دعویٰ پر مشتمل ایک اشتہار بھی انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں شائع فرمایا۔جس کا ضروری اقتباس یہ ہے :- اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجد دوقت ہے اور رُوحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشر ت مناسبت ومشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض به برکت متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجبِ بُعد وحرمان ہے۔له الفضل مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۱۶ء کے آخر سرمه چشم آرید و شحنه حق و آئینہ کمالات اسلام و برکات الدعا