حیات طیبہ

by Other Authors

Page 72 of 492

حیات طیبہ — Page 72

72 66 مطابق ۵ را گست ہے۔یہ واقعہ ظہور میں آئے گا۔“ اس پیشگوئی پر حسب ذیل ہندوؤں کے بطور گواہ دستخط ہیں۔پنڈت بھارامل ساکن قادیان بقلم خود پنڈت بیجا تھ بقلم خود بشند اس برہمن بقلم خود بشند اس کھتری بقلم خود۔چنانچہ ایسا ہی واقعہ بھی ہو گیا یعنی عین اکتیسویں مہینہ کے درمیان مرزا نظام الدین کی دختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر پندرہ سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔اے شهب ثاقبہ کا نشان ۷ ٫۲اور ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں آسمان پر ستاروں کے ٹوٹنے کا ایک غیر معمولی نشان دکھایا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸ / نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آتی ہے۔اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا۔جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کرسکوں۔مجھ کو یاد ہے کہ اس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ مَا رَمَيْتَ إِذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى - اور اس رمی کو تر می ٹھہب سے بہت مناسبت تھی۔یہ شہب ثاقبہ کا تماشا جو ۲۸ / نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا۔جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے تمام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا۔لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اُٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاما ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے کیونکہ اسے پہلے الہامی نوشتوں میں ظہور مسیح کی بہت بڑی علامت قرار دیا گیا تھا۔اه اشتهار ۲۰ مارچ ۱۸۸۵ مندرجه تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۰۲ یعنی جو کچھ تو نے چلا یا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلا یا حقیقۃ الوحی ص ۷۰