حیات طیبہ — Page 426
426 ہے کہ اس موقعہ پر حضرت اماں جان نے یہ فرما یا کہ میں اپنی یتیم بچی کو تمہارے سُپر دکرتی ہوں۔‘ اس کے بعد ان کا دل بھر آیا اور وہ السلام علیک کہہ کر تشریف لے گئیں۔دعوت ولیمه ۱۵ / مارچ ۱۹۰۹ء ۱۵ مارچ ۱۹۰۹ ء کو حضرت نواب صاحب نے قادیان کے تمام احمدیوں اور بعض عمائد قصبہ کو وسیع پیمانہ پر دعوت ولیمہ دی۔اس نکاح سے حضرت اقدس کے بعض الہامات کا پورا ہونا مجھے اس موقعہ پر یہ کہہ دینے کی بھی ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی نسبت اس وقت جبکہ موصوفہ کی عمر صرف چار سال کی تھی۔یہ الہام ہوا تھا کہ نواب مبارکہ بیگم قادیان میں فنانشل کمشنر کی آمد ۲۱ مارچ ۱۹۰۸ء ۱۹۰۸ ء میں سلسلہ عالیہ احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے کافی حد تک ترقی کر چکا تھا۔گورنمنٹ میں مخالف لوگ سلسلہ کے خلاف رپورٹیں بھی کرتے رہتے تھے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ان رپورٹوں کی تحقیقات کرنے کے لئے ہی گورنمنٹ نے فنانشل کمشنر سر جیمز ولسن کو سلسلہ کے متعلق مستند معلومات حاصل کرنے کے لئے قادیان کو بھی اپنے دورہ میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ورنہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں اتنے بڑے افسر کے جانے کی بظاہر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔چنانچہ پنجاب کے فنانشل کمشنر صاحب نے اپنے دورہ کے پروگرام میں قادیان کو بھی شامل کر لیا۔حضرت اقدس کی خدمت میں اطلاع پہنچ چکی تھی۔حضور نے ایک تو باہر کے معزز ا حباب کو فنانشل کمشنر کے استقبال کے لیے بلالیا تھا اور دوسرے کمشنر صاحب کو مہمانی قبول کرنے کی دعوت بھی بھجوا دی تھی۔جسے کمشنر صاحب نے منظور کر لیا تھا۔کمشنر صاحب موصوف کے خیموں کے واسطے وہ جگہ تجویز کی گئی۔جہاں آج کل تعلیم الاسلام کالج کی وسیع عمارت کھڑی ہے۔حسب پروگرام ۲۱ مارچ ۱۹۰۸ ء کو فنانشل کمشنر صاحب مسٹر کنگ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور مہتمم بندوبست کے ہمراہ قادیان پہنچے۔جماعت کے معززین نے ان کا استقبال کیا۔رات کے کھانے کی دعوت تو صاحب بہادر حضرت اقدس کی طرف سے منظور کر ہی چکے تھے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی خواہش کی کہ اگر حضرت مرزا صاحب کو تکلیف نہ ہو تو میں اُن سے ملاقات بھی کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ جب حضرت اقدس سے ذکر کیا گیا تو فرمایا۔صاحب بہادر ہمارے مہمان ہیں۔ہم عصر کی نماز کے بعد خود ان کی ملاقات کے لئے