حیات طیبہ

by Other Authors

Page 425 of 492

حیات طیبہ — Page 425

425 دیتے ہیں مگر دل نہیں چاہتا۔ہمارا دل کچھ اور چاہتا ہے۔مگر زبان جلتی ہے۔حضرت نواب صاحب آپ کے اس فقرہ سے آپ کے خیال کو سمجھ گئے اور خط لکھوانے کی جو خواہش لیکر آئے تھے۔وہ چھوڑ دی اور آپ سے کچھ کہے بغیر اٹھ کر چلے گئے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی اہلیہ سے جن کی آمد و رفت آپ کے یہاں زیادہ تھی۔یہ ذکر کیا کہ اپنے طور پر اس معاملہ سے متعلق حضرت اقدس کی مرضی معلوم کرو۔اور میری طرف سے کچھ ذکر نہ کرنا۔مگر چونکہ وہ بہت صاف گو تھیں۔انہوں نے جو باتیں نواب صاحب نے کہی تھیں۔وہ سب بیان کر دیں۔اس کے بعد یہ سلسلہ حضرت پیر منظور محمد صاحب کے ذریعہ چلا۔اور یہ رشتہ قرار پا گیا۔اور ۱۷ فروری ۱۹۰۷ ء کو بعد نماز عصر چھپن ہزار روپیہ مہر پر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے خطبہ نکاح پڑھا۔جس میں نکاح کے اغراض و مقاصد اور فلسفہ بیان کرنے کے بعد یہ بھی فرمایا کہ: ان یعنی نواب محمد علی خاں صاحب کا یہ رشتہ کا تعلق حضرت امام علیہ السلام سے ہوتا ہے۔یہ سعادت اور فخر ان کی خوش قسمتی اور بیدار بختی کا موجب ہے۔ان کے ایک بزرگ تھے۔شیخ صدر جہان (علیہ الرحمہ ) ایک دنیا دار (بادشاہ) نے ان کو نیک سمجھ کر اپنی لڑکی دی تھی۔مگر یہ خدا تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے اور اس کی نکتہ نوازی ہے کہ آج محمد علی خاں کو سلطانِ دین نے اپنی لڑکی دی ہے۔یہ اپنے بزرگ مورث سے زیادہ خوش قسمت ہیں یہ میراعلم، میرادین، اور میرا ایمان بتاتا ہے کہ یہ حضرت صدر جہان سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔اے مہر کی تعیین کے متعلق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی روایت تعیین مہر کے متعلق حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی روایت ہے کہ: حضرت نواب صاحب بتاتے تھے کہ جب حضرت اقدس نے دو سالہ آمدنی کی جمع ۵۶ ہزار روپیہ تمہارا مہر مقر فرمایا تو اس وقت میری آمدنی کم تھی۔مگر میں خاموش رہا اور حضرت کے اندازے کی تردید مناسب نہ سمجھی لیکن اس سال کے اندر ایک ورثہ کے شامل ہو جانے سے ٹھیک اتنی ہی آمد ہو گئی جس کا دو سالہ حساب چھپن ہزار روپیہ بنتا تھا۔کئی بار مجھ سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔اس کے بعد ان کی آمد سالانہ اور زیادہ ہوگئی تھی۔قریبا ۳۷ ہزار سالانہ ہے تقریب رخصتانه ۱۴ / مارچ ۱۹۰۹ء یہ تقریب اس طرح عمل میں آئی کہ حضرت اقدس کے وصال کے قریبا ساڑھے نو ماہ بعد ۱۴ / مارچ ۱۹۰۹ء کو اتوار کے روز قریبا دو بجے بعد دو پہر حضرت اماں جان حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کو ساتھ لے کر حضرت نواب صاحب کے مکان میں جو حضرت اقدس کے مکان سے بالکل ملحق ہے۔پہنچا آئیں۔حضرت نواب صاحب کا قول لے تفصیل کیلئے دیکھئے اصحاب احمد حصہ دوم صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۱ ه اصحاب احمد جلد دوم حاشیہ صفحہ ۲۳۷