حیات طیبہ — Page 427
427 چلیں گے۔اس امر کی صاحب بہادر کو بھی اطلاع کر دی گئی۔چنانچہ ۵ بجے شام حضور چند خدام کے ہمراہ فنانشل کمشنر کے کیمپ میں پہنچ گئے۔پون گھنٹہ کے قریب ملاقات رہی۔مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔سلسلہ کے متعلق بھی صاحب بہادر نے بہت سے سوالات کئے۔حضرت اقدس نے ان کے جوابات دیئے۔جب حضور واپس تشریف لے جانے لگے تو فنانشل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دونوں نے آپ کا شکر یہ ادا کیا۔حضور نے خیمہ سے باہر آنے پر دیکھا کہ بہت سے احمدی جمع ہیں اور مصافحہ کے خواہشمند۔اس پر حضور قادیان کی آبادی کے باہر ایک جگہ کھڑے ہو گئے اور سب خادموں کو مصافحہ کا شرف عطا فرمایا۔قادیان میں دو امریکن سیاحوں کی آمد ۷ را پریل ۱۹۰۸ء ۷ را پریل ۱۹۰۸ ء کو دو امریکن سیاح اور ان کے ساتھ ایک لیڈی حضرت اقدس سے ملاقات کے لئے قادیان آئے۔انہوں نے ڈاکٹر ڈوئی کے ساتھ مباہلہ کی کیفیت۔حضور کی صداقت کے نشانات اور آمد کے مقاصد پر کئی ایک سوالات حضور کی خدمت میں پیش کئے۔جن کے حضور نے بالتفصیل جوابات دیئے۔نشانات کے ضمن میں حضور نے ان کی اتنی دور سے آمد کو بھی اپنا نشان قرار دیا۔چنانچہ حضور نے فرمایا: آپ لوگ خود میری صداقت کا نشان ہیں چھبیس برس پہلے جبکہ اس گاؤں میں میں ایک غیر مشہور انسان تھا۔اور کوئی ذریعہ اشاعت اور شہرت کا نہ رکھتا تھا۔خدا نے میری زبان پر ظاہر کیا کہ يَأْتُونَ مِن كُل فج عميق - دُور دُور کی راہوں سے لوگ تیرے پاس چل کر آئیں گے۔اب دیکھو آپ لوگوں کو اس پیشگوئی کا کوئی علم نہیں اور پھر بھی آپ اسے پورا کرنے والے ٹھہرے شاید اگر آپ کو معلوم ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے پورا کرنے میں تامل کرتے۔مگر خدا کو جو کچھ کرانا منظور تھاوہ کرا دیا۔امریکہ سے دُور کونسا ملک ہو سکتا ہے جہاں سے چل کر لوگ میرے پاس آئے اور پھر ایسی جگہ جہاں کوئی بھی دلچسپی کا سامان نہیں۔اگر غور کرو تو یہ بات مُردہ زندہ کرنے سے بڑھ کر ہے۔مردے زندہ کرنا تو ایک قصہ کہانی ہو گئے۔اور یہ کل کی بات ہے پیشگوئی پہلے شائع ہو چکی ہے اور اس کی صداقت آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔‘1 سفر لا ہور اور وفات کے الہامات کا اعادہ۔۱/۲۷ پریل ۱۹۰۸ء ان دنوں میں حضرت اماں جان کی طبیعت علیل رہتی تھی۔اس لئے اُنہوں نے خواہش کی کہ لاہور جا کر کسی ے بد ر جلدے نمبر ۱۴ پرچہ ۱۹ را پریل ۱۹۰۸ء