حیات طیبہ — Page 423
423 مضمون حضرت اقدس اور جلسہ آریہ سماج و چھو والی لاہور۔۲، ۳، ۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ء ۱۹۰۷ء میں آریہ سماج لاہور نے اپنا سالانہ جلسہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دسمبر ۱۹۰۷ ء میں ایک عام جلسہ مذاہب منعقد کیا جائے جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی لیڈروں کو دعوت دیکر اس مضمون پر تقاریر کروائی جائیں کہ الہامی کتاب کونسی ہو سکتی ہے۔آریوں کے نمائندے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے حضور نے آریوں کی عادات اور اخلاق کا خیال کر کے اعراض فرمانا چاہا لیکن بہت زیادہ اصرار پر فرمایا کہ اچھا ہم بھی اس موضوع پر ایک مضمون لکھ دیں گے۔آریوں نے جلسہ کے لئے ۲۔۳۔۱۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ ء کی تاریخیں مقرر کی تھیں اور اس جلسہ میں شمولیت کے لئے چار آنہ فی کس ٹکٹ مقرر کر دیا تھا۔قادیان سے حضرت مولانا نورالدین صاحب کی قیادت میں ایک وفد اس جلسہ میں شامل ہوا۔جلسہ میں ہندوؤں ، عیسائیوں، برہموسا جیوں اور مسلمانوں کی تقریریں ہونا قرار پایا تھا۔دوسرے دن حضرت اقدس کا مضمون سنایا جانا تھا۔اس لئے دُور ونزدیک سے کافی تعداد میں احمدی اس جلسہ میں شامل ہوئے۔حضرت اقدس کا مضمون حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے پڑھ کر سنایا۔اس مضمون پر گل دو گھنٹے پندرہ منٹ صرف ہوئے۔یہ مضمون کیا تھا۔اس کی کیفیت دیکھنے سے ہی معلوم ہوسکتی ہے۔حضرت اقدس نے اس مضمون میں چند ایسی تجاویز بھی بیان فرمائی تھیں کہ اگر ان پر آریوں کی طرف سے عمل کرنے کا عہد کر لیا گیا ہوتا تو مذہبی مخالفت اور ایک دوسرے پر اعتراضات کا دروازہ بند ہوسکتا تھا لیکن آریوں نے ان تجاویز پر توجہ کرنے کی بجائے جو کشمکش و کشاکش مذہبی کو دور کرنے کے لئے لکھی گئی تھیں۔اپنے آخری مضمون میں جو تیسرے روز پڑھا گیا تھا۔سخت گوئی اور بدزبانی سے دل آزاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔حالانکہ وہ اس سے قبل وعدہ کر چکے تھے کہ جلسہ میں کوئی بات خلاف تہذیب اور کسی مذہب کی دلا زاری کا رنگ رکھنے والی نہیں ہوگی۔حضرت اقدس کو جب اس کا علم ہوا تو آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ نے نہایت رنجیدگی اور ناخوشی کا اظہار فر ما یا اور فرمایا کہ ہماری جماعت کے لوگ ایسی حالت میں کیوں مضمون سُنتے رہے اور کیوں اُٹھ کر چلے نہ آئے۔آریوں نے اپنے مضمون میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات کئے تھے ان کا جواب دینے کے لئے حضور نے چشمہ معرفت کے نام سے ایک کتاب لکھی۔جس کے شروع میں جلسے کی کیفیت اور اس میں آریوں کی طرف سے آخری دن کے مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر حملے اور اسلام