حیات طیبہ — Page 422
422 حضرت اقدس کو آپ کی پیدائش کے وقت ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتا دیا گیا تھا کہ یہ لڑ کا جلد فوت ہو جائے گا مگر آپ اس کی تاویل فرماتے رہے۔چنانچہ آپ نے لکھا: مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی کہ میں تجھے ایک اور لڑکا دوں گا اور یہ وہی چوتھا لڑکا ہے جواب پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا اور اس کے پیدا ہونے کی خبر قریبا دو برس پہلے مجھے دی گئی۔اور پھر اس وقت دی گئی کہ جب اس کے پیدا ہونے میں قریبا دو مہینے باقی رہتے تھے اور جب یہ پیدا ہونے کو تھا تو یہ الہام ہوا کہ اِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللهِ وَأُصِیبُ یعنی میں خدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں اور خدا ہی کی طرف جاؤں گا۔میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہوگا اور رو بخدا ہوگا۔اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔اس بات کا علم خدا تعالیٰ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔آخر واقعات نے ثابت کر دیا کہ آخری بات ہی یعنی یہ لڑ کا جلد فوت ہو جائے گا۔‘ درست تھی۔حضرت اقدس کو صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے ساتھ بہت ہی محبت تھی اور صاحبزادہ صاحب بھی آپ کے ساتھ بہت مانوس تھے۔وفات سے کچھ عرصہ پہلے صاحبزادہ صاحب نے حضرت اقدس سے آخری مصافحہ کیا اور کہا کہ اب مجھے نیند آ گئی ہے اور اس کے بعد ہی آپ فوت ہو گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔حضرت اقدس نے ان کی وفات پر جو نظم لکھی ہے اس کے ایک شعر میں بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔نظم درج ذیل ہے۔له تریاق القلوب صفحه ۴۰ جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا ملانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر