حیات طیبہ

by Other Authors

Page 424 of 492

حیات طیبہ — Page 424

424 کے خلاف اعتراضات کا نہایت شرح وبسط کے ساتھ جواب ہے اور آخر میں وہ مضمون بھی شامل ہے جو اس جلسہ میں پڑھنے کے لئے لکھا گیا تھا۔۱۹۰۷ء کا سالانہ جلسہ آخر دسمبر ۱۹۰۷ء میں بھی حسب معمول قادیان میں سالانہ جلسہ ہوا۔جو لوگ اس جلسہ میں شامل ہوئے ہوں گے۔ان کو کب اس بات کا علم تھا کہ اگلے سال کے جلسہ میں خدا کا مامور ہم میں موجود نہ ہو گا۔یہ آخری جلسہ تھا جس میں حضرت اقدس کی زبانِ مبارک سے اہلِ جماعت نے نصائح اور کلمات طیبات سُنے۔تصنیفات ٩٠اء ا۔تصنیف و اشاعت : " قادیان کے آریہ اور ہم اس کتاب سے متعلقہ مضامین او پر درج ہو چکے ہیں۔۲ - تصنیف و اشاعت حقیقۃ الوحی۔یہ حضرت اقدس کی سب سے آخری ایک مبسوط کتاب ہے جو حضور کی زندگی میں شائع ہوئی۔اس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے ارتداد کی کیفیت اور ان کے اعتراضات کے مبہوت گن اور اہل تحقیق کے لئے نہایت معلومات افزا و تسلی بخش جوابات ہیں۔اولیاء اللہ کی پہچان اور ان کے مدارج کا بھی اس کتاب میں ذکر ہے اور دوسو کے قریب نشانات کا بھی۔میرا یقین ہے کہ اگر کوئی شخص خالی الذہن ہوکر للہیت کے ساتھ اس کتاب مستطاب کا مطالعہ کرے تو یقیناً اپنے سینہ میں ایک نور لے کر اُٹھے گا اور دہریت اور الحاد کی تمام تاریکیاں اس کے سینہ سے یکسر کا فور ہو جائیں گی۔کاش طالبان حق اسکا پورے انہماک و توجہ سے مطالعہ کریں۔۳۔تصنیف چشمہ معرفت : اس کتاب کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔نکاح حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ۷ ار فروری ۱۹۰۸ء حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی بیگم امتہ الحمید صاحبہ جو موصوف کی دوسری بیوی تھیں۔قریبا پانچ ماہ بیمار کر بین سال کی عمر میں ۲۷ نومبر ۱۹۰۶ء کو وفات پا گئی تھیں۔اور نواب صاحب کا کسی موزون جگہ رشتہ کئے جانے کی ضرورت پیش آگئی۔حضرت اقدس نے بھی کئی جگہ آپ کے لئے رشتہ کی تحریک فرمائی۔لیکن کوئی نہ کوئی روک پیدا ہوجانے کی وجہ سے کہیں رشتہ قرار نہ پایا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کے دل میں ایک رشتہ کا خیال پیدا ہوا تھا۔مگر بوجوہ آپ اس کے اظہار میں متامل تھے۔یہاں تک کہ ایک روز حضرت نواب محمد علی خانصاحب آپ کی خدمت میں آئے اور کسی جگہ رشتہ کے متعلق خط لکھ دینے کی خواہش ظاہر کی۔حضرت مولوی صاحب موصوف نے فرمایا۔اچھا لکھ