حیات طیبہ

by Other Authors

Page 345 of 492

حیات طیبہ — Page 345

345 اپنے ذخائر خوردونوش کا ذکر کر کے حضور سے اس ارادہ کے التوا کی درخواست کی۔حضور کو محترم حکیم صاحب کی خاطر بہت عزیز تھی۔کیونکہ سیالکوٹ میں ملازمت کے ایام سے ہی ان کے ساتھ تعلقات چلے آتے تھے۔اس لئے حضور نے اپنے ارادہ واپسی کوملتوی فرما دیا۔پبلک لیکچر کی تجویز اور فیصلہ ہوا کہ سیالکوٹ میں ایک پبلک جلسہ کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ اس غرص کے لئے ۲ نومبر ۱۹۰۴؛ کی تاریخ مقرر کر کے بذریعہ اشتہارات عام اعلان کر دیا گیا اور حضور مضمون کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔اس لئے ۱/۳۱ اکتوبر ۱۹۰۴ بو کو بھی حضور باہر تشریف نہ لا سکے۔مشتاقان دید کی یہ حالت تھی کہ اُن کی تعداد بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔یہ حالت دیکھ کر حضور سے درخواست کی گئی کہ حضور کچھ دیر دریچے میں رونق افروز ہو جائیں تا لوگ گلی سے شرف دیدار حاصل کر سکیں۔حضور در بیچے میں تشریف تو لے آئے مگر اس خیال سے کہ ہزار ہا مخلوق جو جمع ہے کہیں کوئی بوڑھا یا بچہ یا کمزور ہجوم کے ریلے میں آکر کچلا نہ جائے۔ایک منٹ کھڑے ہو کر واپس تشریف لے گئے۔آپ کے قلم میں اس قدر روانی تھی کہ بعض اوقات سینکڑوں صفحات کی کتاب چند دن میں لکھ لیتے تھے۔سیالکوٹ کا لیکچر جو ایک معرکۃ الآراء لیکچر ہے۔اُسے حضور نے ۳۱ اکتوبر کو بعد دو پہر لکھنا شروع فرما یا اور یکم نومبر کو زیور طبع سے بھی آراستہ ہو گیا۔لیکچر کا موضوع تھا ”اسلام“۔یہ لیکچر ۲ نومبر ۱۹۰۴ ء کی صبح سات بجے مہاراجہ جموں کی سرائے میں پڑھا جانے والا تھا جلسہ گاہ جو مہاراجہ جموں کی سرائے کا صحن تھا۔اس میں دریوں اور شامیانوں کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔چونکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضور سے پہلے تشریف لاکر شہر میں دو پبلک لیکچر دے چکے تھے اور اشتہارات بھی کافی تعداد میں تقسیم ہو چکے تھے اس لئے مخالف علماء صاحبان نے اس روز لوگوں کو جلسہ گاہ میں جانے سے روکنے کے لئے یہ انتظام کیا کہ صبح ساڑھے چھ بجے ہی شہر کے مختلف مقامات پر امتناعی تقریریں شروع کر دیں۔باوجود اس کے حضرت اقدس کا لیکچر سنے کے لئے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہوا کہ اُن کو بٹھانے کا انتظام دشوار ہو گیا۔لیکچر گاہ کو روانگی حضرت اقدس ایک جلوس کی شکل میں لیکچر گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔قریبا پندرہ سولہ گاڑیاں ساتھ تھیں۔حضرت اقدس کیساتھ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی بیٹھے ہوئے تھے اور حضور کی گاڑی کے ساتھ ساتھ انتظام کرنے کے لئے سردار محمد یوسف خاں صاحب سٹی مجسٹریٹ چل رہے تھے۔جلوس کے دور رو یہ مخلوق کا اس قدر