حیات طیبہ — Page 346
346 انبوہ تھا کہ بڑی مشکل سے گاڑیوں کے چلنے کے لئے رستہ بنایا جاتا تھا۔راستہ میں مخالف مولوی صاحبان کے اڈے بھی دکھائی دیتے تھے۔مولوی لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کر مخلوق خدا کو جلسہ گاہ میں جانے سے روک رہے تھے۔مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں کو جلسہ گاہ کا پہلے سے علم تھا وہ تو اس کی طرف جاہی رہے تھے۔جن کو علم نہیں تھا انہیں بھی مولویوں کی تقریروں سے علم ہو گیا اور وہ دیوانہ وار جلسہ گاہ کی طرف دوڑ پڑے عد وشو دسببِ خیر گرخداخواہد حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کی صدارتی تقریر جب حضور لیکچر گاہ میں پہنچے تو دیکھا کہ ہر مذہب وملت کے ہزار ہا لوگ جمع ہیں۔شہر کے معززین کی یہ رائے تھی کہ آج تک سیالکوٹ کی سرزمین میں کسی شخص کے لیکچر میں اتنا بڑا ہجوم نظر نہیں آیا۔اسٹیج پر حضرت اقدس کے ساتھ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دیگر بزرگان تشریف فرما تھے۔شہر کے بعض معززین بھی وہاں ہی بیٹھے تھے۔میاں فضل حسین صاحب بیرسٹر کی تحریک اور حاضرین کی تائید سے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب جلسہ کے صدر قرار پائے۔آپ نے ایک برجستہ مگر مختصر سی تقریر میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی آیت لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحبِ السَّعِيرِط میں جن لوگوں کی باتیں نہ سننے کی وجہ سے قیامت کے روز لوگوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ کاش ہم ان باتوں کو سنتے اور پھر عقل سے کام لے کر ان پر غور کرتے تو آج ہم دُکھوں میں نہ ہوتے۔وہ اس قسم کے لوگ ہیں جس قسم کے انسان کا ابھی آپ لیکچرسنیں گے۔اس لئے توجہ سے سنیئے اور اس پر عمل کیجئے۔حضرت اقدس کا لیکچر اس کے بعد آپ نے حضرت مولوی عبد الکریم سے فرمایا کہ آپ حضرت اقدس کا لیکچر سنائیں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پہلے سورہ حشر کے آخری رکوع کی نہایت خوش الحانی سے بآواز بلند تلاوت کی اور پھر نہایت دلآویز اور دلنشیں انداز سے حضرت اقدس کا لیکچر سنانا شروع کیا۔اس وقت کے منظر کا نقشہ کھینچنا ہماری طاقت سے باہر ہے۔لوگ ہمہ تن محویت کیساتھ حضرت اقدس کا لیکچرشن رہے تھے اور بکثرت لوگ دھوپ میں بھی کھڑے تھے۔اس لیکچر کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے اپنے دعاوی بیان کرتے ہوئے پہلی دفعہ پبلک میں اپنے له الحکم ۳۰ نومبر وه ادسمبر ۱۹۰۴ء