حیات طیبہ — Page 344
344 کئی احباب نے کچھ ایسے انداز سے مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے مکان خالی کر دیئے تھے کہ وہ سارا محلہ جہاں یہ مہمان فروکش تھے ایک ہی مکان کا حکم رکھتا تھا۔ہر کمرے میں پانی اور روشنی کا معقول انتظام تھا۔جماعت کی طرف سے شہر میں عطاروں کی دوکانیں مفت دوا حاصل کرنے کے لئے مخصوص کر دی گئی تھیں۔کھانا کھلانے کا یہ انتظام تھا کہ قادیان کے بزرگوں کو تو کھانا ان کی جائے قیام پر پہنچا دیا جاتا تھا مگر باقی احباب جو سیالکوٹ گوجرانوالہ۔لاہور اور جہلم و گجرات وغیرہ کئی اضلاع سے تشریف لائے ہوئے تھے۔انہیں ایک وسیع صحن میں ایک ہی جگہ بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا تھا۔خیر مقدم میں یہ ذکر کرنا بھول گیا کہ حضرت اقدس کی سیالکوٹ تشریف آوری پر جماعت کی طرف سے مطبوعہ خیر مقدم بھی تقسیم کیا گیا تھا۔جس پر مندرجہ ذیل دو شعر تھے۔اے آمدنت باعث آبادی ما ذکر تو بود زمزمه شادی ما سایه گستر باد یارب بردل شیدائے ما خضر ما مهدی ما عيسى ما مرزائے ما نماز جمعہ کے بعد حضرت اقدس کی تقریر دوسرے روز ۲۸/ اکتوبر کو جمعہ تھا۔جمعہ کی نماز حضرت حکیم حسام الدین صاحب والی مسجد میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی۔جس میں سورہ جمعہ کی تفسیر بیان کی گئی۔نماز کے بعد کافی دوستوں نے بیعت کی۔بیعت کرنے والوں کی تعداد چونکہ بہت زیادہ تھی۔اس لئے بارہ پگڑیاں مختلف سمتوں میں پھیلا دی گئیں۔جنہیں پکڑ کر بیعت کا عہد دوہرایا گیا۔بیعت کے بعد حضور نے ایک مختصری تقریر فرمائی۔جس میں حقیقت بیعت پر روشنی ڈالی اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تلقین فرمائی۔یہ تقریر سلسلہ کے اخبارات میں چھپی ہوئی موجود ہے۔اے بعد نماز جمعہ دیر تک لوگوں میں بیٹھنے کی وجہ سے حضور کی طبیعت مضمحل ہو گئی۔اس لئے اگلے دو روز یعنی ۲۹ اور ۱/۳۰ کتوبر کو حضور باہر تشریف نہ لا سکے۔۱/۳۱اکتو بر ۱۹۰۴ء کو حضور نے واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا۔کیونکہ توقع سے بہت زیادہ مہمان جمع ہو گئے تھے اور حضور کوڈر تھا کہ کہیں جماعت سیالکوٹ کے لئے مہمانوں کا انتظام کرنا مشکل نہ ہو جائے۔جب حضرت حکیم صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو وہ فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور له الحکم پر چہ ۱۷،۱۰ نومبر ۱۹۰۴ء