حیات طیبہ

by Other Authors

Page 343 of 492

حیات طیبہ — Page 343

343 لیکچر بنا چکے تو پبلک نے اصرار کیا کہ حضرت اقدس زبانی بھی کچھ ارشاد فرما ئیں۔لیکن جب حضور کھڑے ہوئے تو بعض مخالفین نے شور مچانا شروع کر دیا۔یہ رنگ دیکھ کر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے قرآن کریم خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔بس پھر کیا تھا۔لوگ ایسے متاثر ہوئے کہ مجمع پر بالکل سکوت طاری ہو گیا۔اس کے فور ابعد حضرت اقدس کی تقریر شروع ہوئی۔حضور نے پہلے پبلک کا شکریہ ادا کیا اور پھر فرمایا۔کہ مذہبی اختلافات کو آپس کی عداوت اور ایذاء رسانی کی وجہ نہ بنائیں۔خدا تعالیٰ کے اخلاق وسیع ہیں آپ لوگ بھی اپنے اندر وسعت قلبی پیدا کریں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ مذاہب کے اختلاف کا ذکر نہ کرو۔کرو اور بیشک کرو۔مگر نیک نیتی کے ساتھ کرو۔تعصب اور کینہ کو درمیان میں نہ لاؤ۔لیکچر کا اثر نہایت ہی اچھا پڑا اور حضرات علماء کی ساری مخالفانہ کوششیں اکارت گئیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔سفر سیالکوٹ۔۱/۲۷ کتوبر ۱۹۰۴ء سفر لاہور کے دوماہ بعد اکتوبر ۱۹۰۴ ء میں آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے سیالکوٹ تشریف لے جانے کے لئے وہاں کے احباب نے قیام لاہور میں ہی درخواست پیش کر دی تھی۔جو حضور نے منظور فر مالی تھی۔چنانچہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ ء کی صبح کو ۴ بجے آپ قادیان سے روانہ ہوئے اہل وعیال بھی ساتھ تھے۔بٹالہ اسٹیشن سے ایک ڈبہ سیکنڈ کلاس کا اور ایک ڈبہ انٹر کلاس کاریز روکر وایا گیا۔امرتسر پہنچنے پر وہاں کی جماعت نے بڑے اخلاص کے ساتھ حضور کی خدمت میں کھانا پیش کیا جو حضور نے قبول فرما لیا۔جب گاڑی لاہور پہنچی تو اس قدر پبلک اسٹیشن پر جمع ہوگئی کہ ریلوے حکام اور پولیس کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔وزیر آباد کے اسٹیشن پر بھی لوگوں کا اتنا اثر دھام تھا کہ ریلوے ملازمین کو آپ کے ریز روڈ بے کاٹ کر سیالکوٹ کی گاڑی کے ساتھ لگانے میں دقت پیش آئی۔وزیر آباد کے احباب نے بھی حضور اور حضور کے ساتھیوں کی تواضع سوڈا اور لیمونیڈ سے کی۔اگر چہ گاڑی مغرب کے بعد سیالکوٹ اسٹیشن پر پہنچی تا ہم مشتاقان زیارت کا یہ حال تھا کہ اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔جب حضور معہ احباب اپنی قیام گاہ پر جانے کے لئے گاڑیوں میں سوار ہو گئے تو باہر جہاں تک نظر پڑتی تھی۔انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آپ کی گاڑی کے ساتھ بھاگے جارہے تھے۔آغا محمد باقر خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ انتظام کرنے کے لئے حضور کی گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے راستہ میں روشنی کے لئے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ حضور کی سواری کے آگے آگے مہتا بیاں چھوڑی جارہی تھیں۔حضور کا قیام حضرت حکیم حسام الدین صاحب کے ایوان میں کیا گیا تھا۔احباب سیالکوٹ کی مہمانداری چونکہ حضرت حکیم صاحب کا مکان سارے احباب کی مہمانداری کے لئے ناکافی تھا۔اس لئے اردگرد کے