حیات طیبہ — Page 226
226 اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ہائے ہائے مرز انٹھ گیا ( یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا ) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا۔خصوصا اس شخص پر۔اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتارہا۔قادیان سے اخبار الحکم کا اجراء مقدمه اقدام قتل جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔اس کی روئیداد حضرت شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے تھے۔مگر اخبارات اس روئیداد کو شائع کرنے سے اعراض کرتے تھے۔حضرت شیخ صاحب کے دل میں اپنا اخبار جاری کرنے کا جوش پیدا ہوا۔چنانچہ انہوں نے ۱۸۹۷ء میں امرتسر سے الحکم نام ایک اخبار جاری کیا اور ۱۸۹۸ء میں سلسلہ کی ضروریات کے پیش نظر اسے امرتسر سے قادیان میں منتقل کر لیا۔اس اخبار نے سلسلہ کی خاص خدمات سرانجام دی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے بانی کو جزائے خیر دے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔وائسرائے ہند کے خدمت میں مذہبی مناقشات کی اصلاح کے لئے میموریل ستمبر ۱۸۹۷ء حضرت اقدس یہ دیکھ رہے تھے کہ آریہ اور عیسائی اپنی تحریروں میں دن بدن اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف تلخ بیانی اور بدزبانی میں بڑھتے جارہے تھے۔اس لئے حضور نے ماہ ستمبر ۹۷ء میں ایک میموریل تیار کیا اور اس پر کثیر التعداد مسلمانوں کے دستخط کروائے اور اُسے لارڈ ایلیجن وائسرائے ہند کی خدمت میں بھجوایا۔اس میموریل میں آپ نے یہ بتایا کہ ہندوستان میں فتنہ و فساد کا زیادہ تر باعث مذہبی جھگڑے ہیں۔اس لئے قانون سٹیشن میں جو اسی سال پاس ہوا ہے۔مذہبی سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہئے۔چنانچہ آپ نے حسب ذیل تین تجاویز پیش کیں۔۔یہ کہ ایک قانون پاس کر دینا چاہئے کہ ہر مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بے شک بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہوگی۔اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری ہوگی۔اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیرو اس بات پر نا خوش ہوں کہ ان کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔لے سیرت مسیح موعود مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ صفحہ ۴۱