حیات طیبہ

by Other Authors

Page 227 of 492

حیات طیبہ — Page 227

227 ۲- اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود ان کے مذہب پر پڑتے ہوں۔یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے مذہب میں بھی موجود ہیں۔۳۔اگر یہ بھی نا پسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک مذہب کے نمائندوں سے دریافت کر کے ان کی مسلمہ مذہبی کتب کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دے کہ کسی مذہب پر اس کی مسلمہ کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جاے۔کیونکہ جب اعتراضات کی بنیادصرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو۔جنہیں اس مذہب کے پیر و تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر اُن کی رُو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ با ہمی بغض و عداوت میں ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔یہ میموریل حضرت اقدس نے اس لئے پیش کیا کہ حضور دیکھ رہے تھے کہ اہلِ اسلام کے سوا اور کسی مذہب والے کے پاس ایسی کتاب نہیں جو اپنی ذاتی خوبیوں اور کشش کی وجہ سے دنیا میں قبولیت حاصل کر سکے اور ان کے پاس دوسرے مذاہب پر لچر اور پوچ اعتراضات کے سوا اور کچھ نہیں۔وہ اپنی مسلمہ کتاب سے ایسی خوبیاں نہیں دکھا سکتے تھے جو منصف مزاجوں کے لئے دل کشی کا موجب ہوں اور اگر مندرجہ بالا میموریل پاس ہو جائے تو عیسائی اور آریہ وغیرہ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔اس بارہ میں راقم الحروف کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔خاکسار ایک پادری صاحب کا لیکچر سننے کے لئے مسیحی دار التبلیغ ، واقعہ انار کلی گیا۔وہاں مشن کی طرف سے فروخت کرنے کے لئے ایک بڑے میز پر کچھ کتابیں بھی رکھی تھیں۔جو ان کتابوں کا نگران تھا وہ ذرا سنجیدہ طبیعت کا انسان تھا۔مجھے جب اس نے میز کے پاس کھڑے دیکھا تو سمجھا کہ یہ علم دوست آدمی معلوم ہوتا ہے۔شاید کوئی کتاب خرید لے۔چنانچہ اس نے کہا۔کیا آپ کوئی کتاب خریدیں گے؟ میں نے کہا۔ہاں! مجھے کوئی ایسی کتاب دیجئے۔جس میں مسیحی مذہب کی خوبیاں بیان کی گئی ہوں۔کسی دوسرے مذہب پر اعتراض نہ کیا گیا ہو۔یہ سُن کر وہ بھونچکا سارہ گیا اور ذرا سوچ کر کہنے لگا کہ ایسی کتاب تو ہمارے پاس نہیں ہے۔میں نے کہا۔پھر آپ لوگ دنیا کے سامنے کیا پیش کر رہے ہیں۔اسلام یا کسی اور مذہب پر اعتراض کرنے سے تو آپ کا مذہب سچا ثابت نہیں ہو جائے گا۔کہنے لگا۔یہ ٹھیک بات ہے۔میں نے کہا۔پھر آپ کوشش کریں کہ تخریبی کارروائیوں کو ترک کر کے تعمیری پہلو پر زور دیں۔کہنے لگا۔بہت اچھا! میں یہ تجویز اپنی سوسائٹی میں پیش کروں گا۔بات یہ ہے کہ ان لوگوں کا سارا دارو مدار اس بات پر ہے کہ کمزور اور ناواقف مسلمانوں کے سامنے اعتراضات کا ایک پلندہ اُٹھا کر رکھ دیتے ہیں۔وہ کوئی جواب تو دے نہیں سکتے۔مرعوب ہوکر ان کے سامنے ہتھیار