حیات طیبہ

by Other Authors

Page 199 of 492

حیات طیبہ — Page 199

199 اور آپ کی شان میں ہمیں کچھ شبہ نہیں ہو گا۔اور جو کچھ آپ فرما ئیں گے۔ہم وہی کریں گے۔پس اگر آپ یہ کہو کہ ہم امریکہ میں چلے جائیں تو ہم وہیں جائیں گے اور ہم نے اپنے تئیں آپ کے حوالہ کر دیا ہے اور انشاء اللہ میں وفادار پاؤ گے۔“ میر وہ باتیں ہیں جو ان کے خلیفہ عبداللطیف مرحوم اور شیخ عبداللہ عرب نے زبانی بھی مجھے سنائیں اور اب بھی میرے دلی دوست سیٹھ صالح محمد حاجی اللہ رکھا صاحب مدر اس سے ان کے پاس گئے تو انہیں بدستور مصدق پایا بلکہ انہوں نے عام مجلس میں کھڑے ہو کر اور ہاتھ میں عصا لے کر تمام حاضرین کو بلند آواز سے سنا دیا کہ میں ان کو اپنے دعوئی میں حق پر جانتا ہوں اور ایسے ہی مجھے کشف کی رُو سے معلوم ہوا ہے اور ان کے صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ جب میرے والد صاحب تصدیق کرتے ہیں تو مجھے بھی انکار نہیں۔1 مولوی غلام دستگیر قصوری کی بددعا اور اس کا اثر۔۱۸۹۷ء۔مولوی غلام دستگیر قصوری نے حضرت اقدس کو مباہلہ کا چیلنج کیا۔مگر ساتھ ہی یہ شرط لگا دی کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو عین میدان مباہلہ میں ہی مجھ پر عذاب نازل ہونا چاہئے۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں ۱۵؎ جنوری ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ مباہلہ کا مسنون طریق وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے وقت اختیار کیا تھا۔اور وہ یہ تھا کہ اگر وہ مقابلہ پر آتے تو ایک سال کے اندر اندر ہلاک ہو جاتے۔ظاہر ہے کہ مباہلہ کا یہ ایک مسنون طریق تھا۔جس کی اتباع مولوی غلام دستگیر قصوری کے لئے واجب تھی۔مگر انہوں نے اس مسنون طریق سے انحراف اختیار کر کے اپنے لئے ہلاکت کی ایک اور راہ تجویز کر لی اور وہ یہ کہ انہوں نے ۱۳۱۵ھ میں ایک کتاب فتح ربانی لکھی۔جس میں تحریر کیا کہ اللَّهُمَّ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا مَالِكَ الْمُلْكِ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مولف مجمع الجار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑہ غرق کیا (جوان کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا ) ویسا ہی دعا اور التجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ کی ہے۔جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے کہ تو مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو تو بہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا۔فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَبِالْإِجَابَةِ ا ضمیمه انجام انتقم صفحه ۲۰ تا ۳۵