حیات طیبہ

by Other Authors

Page 200 of 492

حیات طیبہ — Page 200

200 جدیز امین۔یعنی جو لوگ ظالم ہیں وہ جڑھ سے کاٹے جائیں گے اور خدا کے لئے حمد ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے اور دُعا قبول کرنے والا ہے۔“ ۱؎ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں حضرت اقدس کی نسبت یہ بھی لکھا تھا کہ بالهُ وَلا تُبَاعِه یعنی وہ اور اس کے پیرو ہلاک ہو جائیں۔خدا کی قدرت کہ جو طریق فیصلہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے چاہا تھا اس دُعا کے بعد اسی کے مطابق چند روز کے اندر اندر خود طاعون کا شکار ہو گئے۔اب کیا مولوی غلام دستگیر قصوری کی کوئی قابل ذکر یاد گا باقی ہے؟ ہرگز نہیں۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ - مولوی غلام دستگیر قصوری کو یہ شوق پیدا ہوا تھا کہ جس طرح امام محمد طاہر نے ایک جھوٹے مسیح پر بددعا کی تھی اور خدا تعالیٰ نے اس کو ہلاک کر دیا تھا۔اسی طرح میرے بددعا کرنے پر خدا تعالیٰ میرے زمانہ کے مدعی مہدویت کو ہلاک کر دے گا۔مگر ہوا یہ کہ اس بددُعا کے بعد چند دن کے اندر اندر ہی خود ہلاک ہو گئے۔مخالف علماء کونشانات میں مقابلہ کی دعوت حضرت اقدس نے جب دیکھا کہ مخالف علماء ” الہامات کے بارہ میں بھی مجھ سے مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے تو آپ نے مزید حجت تمام کرنے کے لئے انہیں نشانات میں مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات چھ طور کے میرے ساتھ ہیں۔خلاصہ حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔اول : اگر کوئی مولوی عربی کی بلاغت و فصاحت میں میری کتاب ( انجام آتھم ) کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ ذلیل ہو گا۔دوم : اور اگر بی نشان منظور نہ ہو تو میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالمقابل تفسیر بناویں۔سوم : اور اگر یہ نشان بھی منظور نہ ہو تو ایک سال تک کوئی نامی مولوی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے۔اگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو۔تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں۔چہارم: اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو ایک تجویز یہ ہے کہ بعض نامی مخالف اشتہار دے دیں کہ اس تاریخ کے بعد ایک سال تک اگر کوئی نشان ظاہر ہو تو ہم تو بہ کریں گے اور مصدق ہو جائیں گے۔پنجم : اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بٹالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کر لیں پس اگر مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا له فتح رحمانی صفحه ۲۷،۲۶