حیات طیبہ — Page 198
198 حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والوں کی تصدیق اس مباہلہ کے جواب میں اور تو کسی عالم یا سجادہ نشین نے تصدیق یا تکذیب کی جرات نہ کی۔البتہ نواب صاحب بہاولپور کے پیر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والوں نے عربی زبان میں ایک خط آپ کی خدمت میں لکھا۔جس کے ایک حصہ کا ترجمہ حسب ذیل ہے: واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کے لئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر چہ میں عدیم الفرصت تھا۔تاہم میں نے اس کتاب کے ایک جزء کو جو حسنِ خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھی پڑھا ہے۔سواے ہر ایک حبیب سے عزیز تر۔تجھے معلوم ہو کہ میں ابتداء سے تیرے لئے تعظیم کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو اور کبھی میری زبان پر بجر تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔اور اب میں مطلع کرتا ہوں کہ میں بلاشبہ تیرے نیک حال کا معترف ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عند اللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے۔میرے لئے عاقبت بالخیر کی دعا کر اور میں آپ کے لئے انجام خیر و خوبی کی دعا کرتا ہوں۔اے حضرت میاں غلام فرید صاحب کے اس خط کو دیکھ کر حضرت اقدس بہت خوش ہوئے اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج فرمایا اور دوسرے سجادہ نشینوں کو بھی تلقین فرمائی کہ میاں غلام فرید صاحب کے نمونہ پر چلیں۔سید رشید الدین صاحب پیر صاحب العلم کی تصدیق دوسرے سجادہ نشین سید رشید الدین صاحب پیر صاحب العلم سندھی تھے۔جنہوں نے آپ کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے بھی حضرت اقدس کو عربی زبان میں خط لکھا۔جس کا ترجمہ درج ذیل ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم کشف میں دیکھا۔پس میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا یہ جھوٹا یا مفتری ہے یا صادق ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ صادق ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ آپ حق پر ہیں۔اب بعد اس کے ہم آپ کے امور میں شک نہیں کریں گے لے ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۶ سے ان پیر صاحب سے ان کے بعض مریدوں نے حضرت اقدس کی صداقت معلوم کرنے کے لیے دعا کی درخواست تھی۔