حیات طیبہ

by Other Authors

Page 148 of 492

حیات طیبہ — Page 148

148 روئیداد مباحث "جنگ مقدس جنگ مقدس سے مراد حضرت اقدس کا وہ مباحثہ ہے جو حضور نے ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء سے لے کر ۵ /جون ۱۸۹۳ء تک امرتسر کے مقام پر پادریوں کے ساتھ کیا۔اس مباحثہ کی تقریب کس طرح پیدا ہوئی۔اس کے متعلق اس مباحثہ کے ایک عینی شاہد حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پر لیس امرتسر کا بیان ہے کہ میں ایک روز قادیان شریف میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھا کہ جنڈیالہ سے کسی مسلمان پاندہ کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پہنچا۔چونکہ جنڈیالہ میں پادریوں کا زبر دست مشن تھا اور اس کے مشنری بازار میں وعظ کیا کرتے تھے۔پاندہ صاحب نے اپنے شاگردوں کو انجیل کے متعلق کچھ اعتراضات سکھائے۔وہ شاگر د عیسائی واعظوں سے بحث کیا کرتے تھے اور اعتراضات پیش کر کے جواب مانگا کرتے۔ان عیسائیوں سے جب کوئی معقول جواب بن نہ پڑا تو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک سے شکایت کی کہ ہمیں مسلمان پاندہ کے شاگرد بہت تنگ کرتے ہیں۔ان کو کسی صورت سے روکا جائے۔ہنری مارٹن صاحب جنڈیالہ پہنچے اور پاندہ صاحب سے کہا کہ تم نے جو اپنے شاگردوں کو ہمارے واعظوں کے پیچھے لگا دیا ہے۔اس سے کوئی فائدہ نہیں بہتر ہے کہ تم ایک جلسہ کرو اور اپنے مولویوں کو بلاؤ۔پھر معلوم ہو جائے گا کہ دینِ حق کونسا ہے اور ان لڑکوں کو منع کر دو کہ ہمارے منادوں کو تنگ نہ کیا کریں۔اس پر پاندہ صاحب نے اس تجویز کو منظور کر لیا اور مولویوں کو خط لکھنے شروع کئے کہ پادریوں سے اسلام کی صداقت پر بحث کے لئے جنڈیالہ تشریف لائیں اور ایک خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کولکھا جو میری موجودگی میں قادیان آیا۔حضرت اقدس اس خط کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک شکار بھیجا ہے آج ہی ہم اس کا جواب بھیجتے ہیں اور فرمایا کہ ایک خط پاندہ صاحب کے نام اور ایک پادری صاحب کے نام لکھنا ہے۔ہمیں تجربہ سے معلوم ہے کہ پادری صاحب جلد جواب دیں گے اور پاندہ صاحب کی خبر نہیں کب جواب دیں۔میں اس کے دوسرے روز امرتسر چلا آیا۔پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں تیار ہوں حضرت صاحب کے خط کا یہ مضمون تھا کہ اگر جنڈیالہ یا امرتسر یا بٹالہ میں یہ جلسہ ہو تو ہم اپنے خرچ پر آئیں گے کسی پر بار نہ ڈالیں گے اور اگر آپ صاحبان قادیان آدیں اور جلسہ بحث منعقد ہو تو ہم سارا خرچ سفر اور خوراک وغیرہ اپنے ذمہ لیں گے۔اس کے جواب میں ہنری مارٹن کلارک نے لکھا کہ