حیات طیبہ — Page 147
147 انکار نہ کر قصہ ختم کر اور مجھ سے قبول ہو جانے والی دعا کا نمونہ دیکھے۔جس مضمون میں یہ اشعار لکھے ہیں اس کا عنوان نمونہ دعائے مستجاب تھا۔کیونکہ ابھی تک لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی وقوع میں نہیں آئی تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی نسبت ایک پیشگوئی۔۴ رمئی ۱۸۹۳ء اس زمانہ میں جبکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت اقدس کی مخالفت میں تمام دوسرے مخالفوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔حضرت اقدس نے ان کے متعلق ایک رویا دیکھی۔وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ يُؤْمِنُ بِإِيْمَانِي قَبْلَ مَوْتِهِ وَرَأَيْتُ كَانَهُ تَرَكَ قَوْلَ التَكْفِيرِ وَتَابَ وَهَذِهِ رُؤْيَايَ وَأَرْجُو اَنْ يَجْعَلَهَا رَبِّي حَقًّا “ا د یعنی میں نے دیکھا کہ یہ شخص (یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی۔مؤلف ) اپنے مرنے سے قبل میرے مومن ہونے کا اقرار کر لے گا اور یہ میں نے دیکھا کہ انہوں نے فتویٰ کفر کو ترک کر دیا ہے اور ( اپنے سابقہ طرز عمل سے۔مولف) توبہ کرلی ہے یہ میری رویا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ میرا خدا اسے پوری کر کے دکھا دے گا۔“ حضرت اقدس کی اس رویا کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کئے کہ ۱۹۱۳ء میں گوجرانوالہ کے منصف درجہ اوّل لالہ دیو کی نندن صاحب کی عدالت میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بطور گواہ یہ اقرار کیا کہ یہ سب فرقے قرآن مجید کو خدا کا کلام مانتے ہیں اور یہ فرقے قرآن کی مانند حدیث کو بھی مانتے ہیں ایک فرقہ احمدی بھی اب تھوڑے عرصہ سے پیدا ہوا ہے جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی مسیحیت و مہدویت کیا ہے۔یہ فرقہ بھی قرآن وحدیث کو یکساں مانتا ہے۔کسی فرقہ کو جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ہمارا فرقہ مطلقا کافر نہیں کہتا۔“ حیرت کی بات ہے کہ وہی مولوی محمد حسین بٹالوی جو ذرا ذراسی بات پر حضور کو کافر اور اکفر اور نہ معلوم کن کن خطابات سے یاد کرتے تھے۔گوجرانوالہ کی ایک عدالت میں جہاں ایک عورت اس بناء پر ایک شخص کے حلقہ زوجیت سے الگ ہونا چاہتی تھی کہ یہ احمدی ہے۔عدالت میں صاف صاف احمدیوں کے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔له از اشتہار ۴ رمئی ۱۸۹۳ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۴۴