حیات طیبہ — Page 136
136 روز بعد منشی محمد روڑ ا صاحب بھی لدھیانہ آپہنچے۔میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فر مایا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی منشی روڑ اصاحب نے عرض کی کہ جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں۔اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں ( یعنی ظفر احمد ) وہ روپیہ صرف اپنی طرف سے پیش کر چکا ہوں۔اس پر منشی صاحب مرحوم بہت ہی ناراض ہوئے اور حضور سے عرض کیا کہ اس نے ہمارے ساتھ بہت دشمنی کی جو ہم کو نہ بتایا۔حضور نے منشی روڑا صاحب سے فرمایا۔منشی صاحب ! خدمت کرنے کے بہت سے موقعے آئیں گے۔آپ گھبرائیں نہیں۔منشی صاحب اس کے بعد ایک عرصہ تک مجھ سے ناراض رہے۔1 اب حضرت منشی روڑے خاں صاحب کے عشق و محبت کی داستان بھی سُن لیجئے۔حضرت اقدس امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبات میں کئی مرتبہ یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔کہ منشی روڑے خاں صاحب کے دل میں یہ بڑی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کچھ سونا پیش کریں۔چونکہ تنخواہ قلیل تھی۔اس لئے حضرت اقدس کی زندگی میں اس خواہش کو پورا نہ کر سکے۔حضور کے وصال کے بعد وہ کچھ اشرفیاں لے کر میرے پاس آئے اور آبدیدہ ہو کر کہنے لگے میں ساری عمر اس کوشش میں رہا کہ حضور کی خدمت میں کچھ سونا پیش کروں مگر کامیاب نہ ہو سکا۔اب اشرفیاں ملی ہیں تو حضور اس دنیا میں نہیں۔یہ کہا اور پھر رو پڑے اور اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔اللہ! اللہ! کیا جذبہ عشق ومحبت ہے۔کاش بعد میں آنے والی نسلوں میں بھی اس قسم کی مثالیں قائم رہیں۔سفر جالندھر کپورتھلہ میں دو ہفتہ قیام فرمانے کے بعد آپ عازمِ جالندھر ہوئے۔جالندھر میں مخالفت کا بڑا زور تھا۔اس لئے حضور نے نہ چاہا کہ اس شہر کے لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کے بغیر واپس تشریف لے جائیں۔چنانچہ حضور جالندھر پہنچ کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔بعض لوگوں نے سپر نٹنڈنٹ پولیس سے جو ایک انگریز تھا۔شکایت کی کہ یہاں ایک مدعی مسیحیت قادیان سے آیا ہوا ہے اور لوگوں میں اپنے خیالات کی بڑے زور سے اشاعت کر رہا ہے اگر اُسے روکا نہ گیا۔تو اندیشہ ہے کہ شہر میں فساد برپا ہو جائے۔آپ اسے حکم دیں کہ وہ اس شہر سے چلا جائے۔اس شکایت کی تحقیقات کے لئے وہ انگریز افسر حضور کی قیامگاہ پر آیا اور حضور سے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے آئے ہیں؟ حضور نے اس سوال کے جواب میں ایک لمبی تقریر فرمائی۔وہ آپ کی تقریر سنکر اور متاثر ہو کر آپ کے چہرہ ل بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۲۳۔