حیات طیبہ — Page 135
135 سفر کپورتھلہ کپورتھلہ کے احباب تو آپ سے خاص طور پر مخلصانہ تعلقات رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ آپ کے فدائی تھے۔حضرت اقدس کے دورانِ قیام لاہور میں انہوں نے بھی اپنے کسی نمائندہ کے ذریعہ حضور کے کپور تھلہ تشریف لانے کا وعدہ حاصل کر لیا تھا۔وہاں حضرت اقدس اس سے پہلے بھی دو مرتبہ تشریف لے جاچکے تھے۔اب کے جو تشریف لے گئے تو برخلاف سابق معمولی سی مخالفت بھی ہوئی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک اشتہار بعنوان ” بد دعا نامہ وہاں کے مولویوں کے پاس بھیجا۔جب وہ اشتہار حضرت اقدس کے پاس پہنچا تو حضور نے دیکھا کہ اس میں مباحثہ کا چیلنج بھی ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ شخص لدھیانہ کے مباحثہ کی ندامت کو مٹانے کے لئے اس قسم کی حرکات کرتا رہتا ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے آسمانی فیصلہ کی طرف کیوں نہیں آتے؟ جماعت کپورتھلہ کی خصوصیات بے محل نہ ہوگا اگر اس جگہ جماعت کپورتھلہ کی بعض نمایاں خصوصیات کا ذکر بھی کر دیا جائے۔یہ جماعت حضور کے عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس کی قربانیاں بھی بے مثل تھیں۔یہی ایک جماعت ہے جس کو حضرت اقدس نے تحریری بشارت دی تھی کہ کپورتھلہ کی جماعت دنیا میں بھی ہمارے ساتھ ہے اور قیامت ( یا جنت ) میں بھی ہمارے ساتھ رہے گی۔،، میرا دل چاہتا ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو کم از کم اس جماعت کے دو بزرگوں اعنی حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت منشی روڑے خاں صاحب کے اخلاص و محبت کا ایک ایک واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب والد محترم جناب شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ وامیر جماعت احمد یہ لائلپور کا بیان ہے کہ حضرت والد محترم منشی ظفر احمد صاحب نے فرمایا۔ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ کیا آپ کی جماعت ساٹھ روپئے ایک اشتہار کی اشاعت کے لئے برداشت کر لے گی ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آکر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا اور ساٹھ روپئے لے کر میں اُڑ گیا اور لدھیانہ جا کر پیش خدمت کر دیئے۔چند ا بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۲۵ - سے محترم جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر فرماتے ہیں کہ والد صاحب کے یہی الفاظ تھے۔