حیات طیبہ — Page 137
137 مبارک کی طرف دیکھتا رہ بالآخر خاتمہ تقریر پر یہ کہہ کر اور سلام کر کے رخصت ہو گیا کہ جب تک آپ کی مرضی ہو قیام فرما ئیں کوئی شخص فساد نہ کر سکے گا۔لے سفر لدھیانہ جالندھر میں آپ نے بارہ تیرہ روز قیام فرمایا۔وہاں سے فارغ ہو کر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے۔وہیں آپ نے رسالہ ” نشان آسمانی، جس کا دوسرا نام شہادۃ الیمین بھی ہے۔تالیف فرمایا اور قادیان تشریف لے آئے اور ۲۶ رمئی ۱۸۹۲ء کو یہ رسالہ شائع فرما دیا۔آپ نے اس میں اپنے دعاوی کی تائید و تصدیق میں اولیائے امت کے کشوف والہامات کا ذکر فرمایا۔ان سفروں کے فوائد ل ان سفروں سے آپ کے مشن کو عظیم الشان فوائد پہنچے۔چنانچہ لدھیانہ اور دہلی کے سفروں کے نتیجہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی سید نذیر حسین صاحب کی انگیخت پر دوسو مولویوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔اس فتوے کی اشاعت اور مخالفانہ تقریروں کے ذریعہ سے آپ کے دعاوی کی ملک کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک اشاعت ہوگئی۔۲۔قرآنی ارشاد و يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ کے مطابق لوگوں کے شور وغوغا اور استہزاء اور گالی گلوچ کرنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ آپ کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سنت اللہ کے مطابق ہے اور آپ واقعی اپنی دعاوی رسالت و ماموریت میں سچے ہیں۔۳۔ان سفروں میں ملک کی بعض مقدر ہستیوں نے جو اپنے تقوی وطہارت اور نیکی اور پاکیزگی کی وجہ سے مشہور تھیں آپ کی بیعت کا شرف حاصل کر لیا اور اس طرح سفروں کے نتیجہ میں کئی جماعتیں قائم ہو گئیں۔۴۔ہزار ہا لوگ آپ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور آپ کی زبان مبارک سے آپ کے دعاوی کے دلائل شن لئے۔طالبان حق کے لئے روحانی تبلیغ او پر ہم لکھ چکے ہیں کہ حضور نے اپنے دعویٰ سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لئے زبانی تقریریں بھی کیں۔ا مختصر از حیات احمد جلد سوم صفحه ۲۲۸ سے وائے افسوس ان بندوں پر کہ جو رسول بھی ان کے پاس آیا انہوں نے اسے ہنسی مذاق اور استہزاء کا نشانہ بنایا سورۃ لیس:۳۱