حیات طیبہ — Page 124
124 تھے۔یہ الہام بار بارکس کس رنگ سے پورا ہوا ہے اس کے بیان کے لئے ایک لمبی تحریر چاہئے۔اختصار کے ساتھ اس کا کچھ کچھ ذکر آئندہ صفحات میں بھی آئیگا۔مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے جس مامور کی عزت کو بٹالوی صاحب برباد کرنا چاہتے تھے اس پر تو آج اکناف عالم میں درود پڑھا جاتا ہے اور دنیا کی مشہور شخصیتیں اس کا نام آتے ہی ادب سے جھک جاتی ہیں اور وہ وقت دور نہیں بلکہ دروازے پر ہے جبکہ دنیا کے بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے لیکن بٹالوی صاحب کا آج کوئی نام لیوا نظر نہیں آتا۔یا تو یہ حالت تھی کہ ہندوستان کی تمام اقوام ان کا نام عزت سے لیتی تھیں اور جہاں سے وہ گذرتے تھے ان کے احترام کے لئے لوگ کھڑے ہو جاتے تھے اور یا اپنی زندگی میں ہی حضرت اقدس کو نعوذ باللہ ذلیل کرنے کا ارادہ لیکر کھڑا ہونے کے بعد سے ہی ان کی عزت گھٹنی شروع ہوئی۔اولا دسب کی سب برباد ہو گئی اور جائیداد ساری تباہ ہوگئی اور جب وہ بٹالہ میں فوت ہوئے تو بٹالہ کے مسلمانوں نے ان کو اپنے قبرستان میں دفن کئے جانے سے انکار کر دیا اور وہ ایک ایسے قبرستان میں دفن کئے گئے جس کے ذکر سے بھی زبان رُک جاتی ہے۔فتوی کفر" کے متعلق حضرت اقدس کا اظہار خیال جس فتویٰ کفر کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔جب یہ فتویٰ حضرت اقدس کے پاس پہنچا۔تو آپ نے ذیل کا اعلان شائع فرمایا: اس فتوے کو میں نے اوّل سے آخر تک دیکھا۔جن الزامات کی بناء پر یہ فتویٰ لکھا ہے۔انشاء اللہ بہت جلد ان الزامات کے غلط اور خلاف واقع ہونے کے بارہ میں ایک رسالہ اس عاجز کی طرف سے شائع ہونے والا ہے جس کا نام دافع الوساوس سے ہوگا۔بایں ہمہ مجھ کو ان لوگوں کے لعن طعن پر کچھ افسوس نہیں اور نہ کچھ اندیشہ بلکہ میں خوش ہوں کہ میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی اور ان کے متبعین نے مجھ کو کافر اور ملعون اور دجال اور ضال اور بے ایمان اور جہنمی اور اکفر کہہ کر اپنے دل کے وہ بخارات نکال لئے جو دیانت اور امانت اور تقویٰ کے التزام سے ہر گز نہیں نکل سکتے تھے اور جس قدر میری اتمام حجت اور میری سچائی کی تلخی سے ان حضرات کو زخم پہنچا۔اس صدمہ عظیمہ کا غم غلط کرنے کے لئے کوئی اور طریق بھی تو نہیں تھا بجز اس کے کہ لعنتوں پر آجاتے۔تفصیل کے لیے مطالعہ فرماویں ” بطالوی کا انجام ے جس کا دوسرا نام آئینہ کمالاتِ اسلام بھی ہے (مؤلف)