حیات طیبہ

by Other Authors

Page 123 of 492

حیات طیبہ — Page 123

دار نہیں ہوسکتا۔123 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو یہ غلط فہمی تھی کہ (حضرت اقدس ) مرزا صاحب کو جو شہرت اور عروج حاصل ہوا ہے یہ ہمارے ان کی کتاب براہین احمدیہ پر ریویو لکھنے اور ان کی تعریف کرنے کی وجہ سے ہوا ہے چنانچہ اسی بناء پر انہوں نے یہ بڑا بول بولا کہ میں نے ہی اُس کو اُونچا کیا تھا اور میں ہی اس کو گراؤں گا۔اے حضرت اقدس نے اپنی کتاب ”نشان آسمانی میں علماء کے ان فتوؤں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔یہ عاجز اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا کہ اس تکفیر کے وقت میں کہ ہر ایک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آرہی ہیں لست مُؤمِنًا ) یعنی تو مومن نہیں ہے۔ناقل ) اللہ جلشانہ کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (یعنی کہہ کہ مجھے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ناقل ) ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیچکنی کرو اور ایک طرف الہام ہوتا ہے يَتَرَبَّصُونَ عَلَيْكَ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ (یعنی وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں بری گردش انہی پر پڑے گی۔ناقل ) اور ایک طرف وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں۔اور ایک طرف خدا و عدہ کر رہا ہے۔إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ اللهُ أَجْرُكَ اللهُ يُعْطِيكَ جَلَالَكَ - ( یعنی جو تیری ذلت چاہے میں اُسے ذلیل کر دوں گا۔اللہ تیرا اجر ہے۔اللہ تجھے تیرا جلال عطا کریگا۔ناقل ) اور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتویٰ لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اور پیروی سے انسان کا فر ہو جاتا ہے اور ایک طرف خدا تعالیٰ اپنے اس الہام پر متواتر زور دے رہا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ اللهُ۔کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو۔تو میری پیروی اختیار کر و۔اس طرح وہ بھی تم سے محبت کر دیگا۔غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑرہے ہیں۔اب دیکھئے فتح کس کی ہوتی ہے۔“ سے یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ الہام انِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَ اهَانَتَكَ جو حضرت اقدس کو بمقام لاہور ہوا تھا۔گویا یہ عام ہے لیکن اس وقت خاص طور پر اس کا پہلا نشانہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہی لے رسالہ ” نور احمد ، صفحہ ۱۷ که نشان آسمانی صفحه ۳۹٬۳۸