حیات طیبہ — Page 118
118 کو اہلِ دہلی نے بُری طرح محسوس کیا خصوصا فرقہ اہلحدیث تو اس کوشش میں لگ گیا کہ جس طرح بھی ہو مرزا صاحب سے مسئلہ حیات و وفات مسیح پر ضرور بحث ہونی چاہئے چنانچہ اس غرض کے لئے علی جان والوں نے جوٹوپیوں کے سوداگر تھے مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کو چنا۔مولوی محمد بشیر صاحب دراصل سہسوان ضلع بدایوں کے باشندہ تھے اور بھوپال میں نواب صدیق حسن خانصاحب کے مجمع علماء میں یہ سلسلہ ملازمت مقیم تھے۔وہاں ہی حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی بھی ملازم تھے۔ان دونوں کے آپس میں بڑے گہرے تعلقات تھے۔جب حضرت اقدس نے دعوی کیا تو دونوں میں باہمی تبادلہ خیالات ہونے لگا۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب اثبات دعوی کا پہلو لیتے تھے اور مولوی محمد بشیر صاحب اس پر اعتراض کرتے تھے۔بالآخر دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ حضرت اقدس اپنے دعوی میں صادق ہیں۔اس پر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے تو جرات کر کے حضرت اقدس کی بیعت کر لی مگر مولوی محمد بشیر صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے بھوپال سے ملازمت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد دہلی میں آگئے یہاں اہل حدیث گروہ کی امامت مل گئی اور افسوس کہ یہی چیز ان کے لئے سلسلہ حقہ میں داخل ہونے سے روک کا باعث بنی۔جب ان کی طرف سے مباحثہ کی تحریک ہوئی تو حضرت اقدس نے اسے بخوشی قبول فرمالیا۔مولوی محمد بشیر صاحب کا یہ اقدام حقیقت میں قابل صد احترام ہے کہ انہوں نے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی کے رویہ کے خلاف لا طائل اُصول موضوع کو چھوڑ کر اصل مسئلہ حیات و ممات مسیح پر بحث کرنا منظور کر لیا اور گونونِ ثقیلہ کی بحث میں ہی اُلجھ کر رہ گئے۔مگر بہر حال طلبگار ان حق کے لئے غور کرنے کی راہ صاف کر گئے۔یہ مباحثه ۱/۲۳ اکتوبر ۱۸۹۸۷ء کو بعد نماز جمعہ شروع ہوا۔تین پرچے مولوی محمد بشیر صاحب نے لکھے اور تین ہی حضرت اقدس نے لکھے۔فریقین کے پرچے ” مباحثہ الحق دہلی“ کے نام سے چھپے ہوئے موجود ہیں اور مسئلہ حیات و وفات مسیح ناصری کی تحقیق کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔حضرت اقدس کا مولوی محمد بشیر صاحب سے خطاب حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مولوی محمد بشیر صاحب اپنے رفقاء سمیت مباحثہ کرنے کی غرض سے حضرت اقدس کے مکان پر پہنچے اور حضور کے سامنے بیٹھ گئے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”مولوی صاحب! مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سچا ہے۔جیسا کہ اور