حیات طیبہ

by Other Authors

Page 117 of 492

حیات طیبہ — Page 117

117 کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ ابھی حضور ذرا ٹھہر جائیں اور میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے کہا کہ آپ کپتان پولیس سے کہیں کہ پہلے فریق ثانی جائے۔پھر ہم جائیں گے۔پھر اس نے ان سے کہا تو وہ مصر ہوئے کہ پہلے انہیں جانا چاہئے۔غرض اس بارے میں کچھ قیل و قال ہوتی رہی۔پھر کپتان پولیس نے کہا کہ دونوں ایک ساتھ رخصت ہو جائیں۔غرض اس طرح ہم اُٹھے۔ہم بارہ آدمیوں نے حضرت صاحب کے گرد حلقہ باندھ لیا اور ہمارے گرد پولیس نے ہم (جب ) دریے کی جانب والے دروازے سے باہر نکلے تو ہماری گاڑی جس میں ہم آئے تھے دہلی والوں نے کہیں ہٹا دی تھی۔کپتان پولیس نے ایک شکرم میں ہمیں سوار کرایا۔کوچ بکس پر انسپکٹر پولیس۔دونوں پائدانوں پر دوسب انسپکٹر اور پیچھے سپاہی گاڑی پر تھے۔گاڑی میں حضرت صاحب۔محمد خاں صاحب منشی اروڑا صاحب، خاکسار اور حافظ حامد علی تھے۔پھر بھی گاڑی پر کنکر پتھر برستے رہے جب ہم چلے تو مولوی عبد الکریم صاحب پیچھے رہ گئے۔محمد خان صاحب گاڑی سے کود پڑے اور مولوی صاحب کے گرد جو لوگ جمع ہو گئے تھے۔وہ محمد خاں صاحب کو دیکھ کر ہٹ گئے اور محمد خاں صاحب مولوی صاحب کو لے آئے۔اے علماء دہلی کا حر پر تکفیر اور اشتعال انگیزی علمائے دہلی کی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے شہر کے غنڈے اور اوباش لوگ اس قدر مشتعل ہو گئے کہ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو کر حضرت اقدس کے مکان پر حملہ کر دیا اور قریب تھا کہ زنانہ مکان کے کواڑ توڑ ڈالیں مگر حضرت اقدس کے جاں نثار مریدوں کے بر وقت دفاع کی وجہ سے ان کی کوئی پیش نہ گئی۔شہر کے گلی کوچے میں ایک شور بے تمیزی برپا تھا۔مختلف قسم کے تمسخر آمیز نعرے لگائے جارہے تھے۔بیہودہ اور لچر اشتہارات لکھ کر بے اصل لاف و گزاف اور دروغ بے فروغ کی خوب اشاعت کی جارہی تھی۔علماء کی طرف سے حضرت اقدس کے خلاف کفر کا فتویٰ دہلی کے گلی کوچوں میں تقسیم کیا گیا۔مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی سے مباحثہ ۲۳/اکتوبر ۱۸۹۱ء مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی نے حضرت اقدس کے مقابلہ میں آکر جو خطر ناک شکست کھائی۔اس له از اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۳۰،۱۲۹ ملخصاً بقدر الحاجة