حیات طیبہ

by Other Authors

Page 105 of 492

حیات طیبہ — Page 105

105 حضرات علماء ہر جگہ اس کے معنی قبض روح اور وفات ہی کرتے ہیں لیکن جب یہی لفظ حضرت مسیح کے متعلق آئے تو اس کے معنی زندہ بجسده العنصری آسمان پر اُٹھائے جانے کے کرتے ہیں۔حضرت اقدس نے اس لفظ پر بصیرت افروز بحث کر کے علماء کو چیلنج کیا ہے کہ: اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اشعار وقصائد نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو۔وہ بحر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے۔یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔اے کتاب مستطاب ازالہ اوہام جس میں حضرت اقدس نے علماء کو یہ چیلنج دیا ہے سن ۱۸۹۱ ء میں لکھی گئی اور آج جبکہ عاجز یہ سطور لکھ رہا ہے۔بائیس آرمئی سن ۱۹۵۹ء ہے گویا قریباً اڑسٹھ سال گذر چکے ہیں مگر ساری دنیا کے کسی عرب یا غیر عرب عالم کو یہ توفیق نہیں مل سکی کہ اس چیلنج کو قبول کر کے حضور کے موقف کے خلاف کوئی ایک ہی مثال پیش کر سکتا لیکن علماء محض اس خوف سے کہ اگر وفات مسیح کا اقرار کر لیا گیا تو لوگوں کو مرزا صاحب کا دعویٰ مسیح موعود سمجھنے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔حیات مسیح پر ہی زور دیئے چلے جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے حضرت اقدس کے دلائل وفات مسیح کی اشاعت کے بعد بہت سے ایسے علماء کو جو شہرت اور روشن خیالی کے لحاظ سے بہت عالی رتبہ خیال کئے جاتے ہیں۔اقرار وفات مسیح پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ان میں سے چند اسماء درج ذیل ہیں۔مولوی انشاء اللہ خاں مرحوم مدیر وطن لاہور۔مولوی غلام علی قصوری۔مولوی ثناء اللہ امرتسری۔مولانا ابوالکلام آزاد۔مولانا غلام مرشد خطیب شاہی مسجد لاہور۔علامہ محمد عبدہ مصری۔علامہ سید رشید رضا مصری۔علامہ محمود شلتوت ریکٹر جامعہ ازہر مصر وغیرہ وغیرہ۔ازالہ اوہام کے بقیہ مباحث ازالہ اوہام میں حضور نے دجال اور یا جوج ماجوج پر بھی سیر کن بخشیں کی ہیں اور بتایا ہے کہ دجال سے مراد فتنہ مسیحیت ہے اور یا جوج ماجوج سے مراد روسی اور انگریز ہیں۔مہدی موعود کے متعلق بھی آپ نے کھول کر لکھا ہے کہ مہدی کا اگر کوئی الگ وجود ہوتا تو یحین میں اس کا یقین ذکر ہوتا لیکن ان دونوں بزرگ اماموں یعنی حضرت محمد اسمعیل بخاری اور حضرت امام مسلم کا اپنی کتابوں میں امام مہدی سے متعلقہ احادیث کا درج نہ کرنا صاف بتاتا ا ازالہ اوہام صفحہ ۳۷۵ تختی کلاں