حیات طیبہ — Page 104
104 الہام یہ ہے: مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے وَكَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا أَنْتَ مَعِى وَاَنْتَ عَلَى حَقِّ الْمُبِينِ۔وَأَنْتَ مُصِيبٌ وَمُعِينَ لِلْحَقِ ط ،، کاش ہمارے علماء صاحبان اس نکتہ کو سمجھ لیتے اور اس عقیدہ کی اشاعت کر کے ہزار ہا بلکہ لکھوکھہا قائلین تو حید کو عیسائیت کا شکار ہونے سے بچالیتے۔اے مسلمان قوم ! تو کتنی بدقسمت ہے کہ تیرے اندر صلیبی فتنہ کو پاش پاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین وقت پر ایک رُوحانی جرنیل آیا۔اس نے اسلام کو سر بلند اور عیسائیت کو سرنگوں کرنے کے لئے تیرے سامنے مضبوط اور قوی دلائل کا ایک انبار لگا دیا۔مگر تیرے علماء پھر بھی اپنی ضد پر قائم رہے اور انہوں نے کھلم کھلا وفات مسیح کا اعلان نہ کیا۔اور اس طرح سے بالواسطہ طور پر عیسی پرستی کی تائید کی اور مسلمانوں کو عیسائیت کے گڑھے میں دھکیلنے کا ذریعہ بن گئے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اے خدا! اے ہادی۔اسے رہنما! تو مسلمان قوم کو سمجھ دے کہ اب بھی سنجل جائے اور عیسائیت کی تائید سے دستکش ہو کر اسلام کی تائید میں کمر بستہ ہو جائے۔آمین الھم آمین۔اس جگہ اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں قرآن کریم کی تیس آیات سے وفات مسیح ثابت کی اور بہت سی احادیث اور بکثرت دلائل عقلیہ اور نقلیہ اس کے علاوہ پیش کئے اور اناجیل اور تاریخ سے بھی بیسیوں کھلے کھلے واضح ثبوت پیش کر کے اس امر کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا کہ مسیح ابن مریم یقیناً یقیناً دوسرے انبیاء کی طرح اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر بہشت بریں میں قیام فرما ہو چکے ہیں۔وہ اس خا کی جسم کے ساتھ نہ آسمان پر گئے ہیں اور نہ آئیں گے۔مگر افسوس مسلمان علماء پر کہ اب تک بھی وہ پرانی لکیر ہی پیٹے جارہے ہیں۔اس مسئلہ میں ان علماء کی مایہ ناز بنیاد جس پر وہ حیات مسیح کی کچی اور کمزور تریں عمارت کو سہارا دیے بیٹھے تھے صرف دو الفاظ رفع اور نزول تھے۔جن کی حقیقت حضرت اقدس نے کما حقہ آئینہ کر دی ہے اور اب علماء کی وہ مزعومہ عمارت پیوند خاک ہو چکی ہے۔لفظ توئی کے معنوں کے متعلق چیلنج اور ایک ہزار رو پیدا نعام قرآن کریم اور احادیث میں تو ئی کا لفظ ذوی العقول کے لئے بیسیوں بلکہ سینکڑوں مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ا ازالہ اوہام حصہ دوم صفحه ۲۳۲ تختی کلاں شائع کردہ صیغہ تالیف و تصنیف۔۲۰ دسمبر ۱۹۵۱ء