حیات طیبہ

by Other Authors

Page 106 of 492

حیات طیبہ — Page 106

106 ہے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث صحیح نہیں تھیں۔البتہ آپ نے ابن ماجہ اور حاکم کی اس حدیث کو صیح قرار دیا ہے کہ لا مَهْدِى إِلَّا عِيسی یعنی بجر عیسی اور کوئی مہدی نہیں ہوگا۔لے حضرت میر ناصر نواب کا اعلان مباحثہ لدھیانہ کے فوائد میں سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ جہاں اور بہت سی سعید روحوں کو ہدایت نصیب ہوئی وہاں آپ کے خسر حضرت میر ناصر نواب جو آپ کے دعوئی مسیح موعود کرنے پر مجوب اور مذبذب ہو گئے تھے۔انہیں آپ کی نسبت اپنی بدگمانی ترک کرنا پڑی اور انہوں نے ایک اعلان کے ذریعہ اپنے گذشتہ افعال پر ندامت کا اظہار کیا اور آئندہ کے لئے توبہ کی اور لکھا کہ: اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا دے اور اس سے فائدہ اُٹھا نا چاہے تو میں عنداللہ بری ہوں۔اور اگر کبھی میں نے مرزا صاحب کی شکایت کی یا کسی دوست سے آپ کی نسبت کچھ کہا ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔“ حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی کی بیعت حضرت مولوی غلام نبی صاحب خوشابی جو متقی اور پرہیز گار ہونے کے علاوہ ایک جید عالم بھی تھے انہیں ایام میں لدھیانہ تشریف لائے ہوئے تھے۔مباحثہ لدھیانہ کی وجہ سے مخالفت خوب زوروں پر تھی۔علمائے لدھیانہ کے جوش و خروش کود یکھ کر وہ بھی آپ کی مخالفت میں دیوانہ ہورہے تھے واعظ خوش بیان تھے۔ان کے قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں۔الغرض لدھیانہ شہر میں مولوی غلام نبی صاحب خوشابی کی دھوم مچ گئی اور جابجا ان کے علم و فضل کا چرچا ہونے لگا اور مولوی غلام نبی صاحب نے بھی حضرت اقدس کی مخالفت میں کوئی بات اُٹھا نہیں رکھی اور آیتوں پر آیتیں اور حدیثوں پر حدیثیں ہر وعظ میں مسیح علیہ السلام کی نسبت پڑھنے لگے۔خدا کی قدرت کے قربان ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے چلے آپ ہی قتل ہو گئے اور پھر آپ کا وجود باجود آیت اللہ ٹھہرا اور فاروق اعظم کہلائے اور الشَّيْطَنُ يَفِرُّ مِنْ ظِلِّ عُمَرَ اللہ کے پیارے نے فرمایا اور خود اللہ نے رضى الله عَنْهُمْ اور رَضُوا عَنا فر مایا۔ا ازالہ اوہام صفحہ ۵۱۹،۵۱۸ از تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۸