حیات طیبہ

by Other Authors

Page 457 of 492

حیات طیبہ — Page 457

457 جاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا اور موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے۔مگر کبھی اس پر سہارا یا بوجھ دیکر نہ چلتے تھے۔جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے۔موسم سرما میں ایک دستہ لیکر آپ مسجد میں نماز کے لئے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا اور اُسے اپنے آگے ڈال لیا کرتے تھے۔جب تشریف رکھتے تو پھر پیروں پر ڈال لیتے۔کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اُتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں۔وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جلے اور صبح کو اُن کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اُتار دیتے اور صرف چادر پالنگی باندھ لیتے۔گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اس کی خاطر بھی گرتہ اُتار دیا کرتے۔تہ بندا کثر نصف ساق تک ہوتا تھا اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ بر ہنہ ہوئے ہوں۔آپ کے پاس اکثر کنجیاں بھی رہتی تھیں۔یہ یا تو رومال میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے۔روئی دار کوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل نہ تھا نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر پشمینہ کی یا ڈھستہ رکھا کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اوڑھتے تھے بلکہ کندھوں اور گردن تک رہتی تھی۔گلو بند اور دستانوں کی آپ کو عادت نہ تھی۔بستر آپ کا ایسا ہوتا تھا کہ ایک لحاف جس میں ۵-۶ سیر روٹی کم از کم ہوتی تھی اور اچھالمبا چوڑا ہوتا تھا۔چادر بستر کے اوپر اور تکیہ اور تو شک۔تو شک آپ گرمی ، جاڑے دونوں موسموں میں بسبب سردی کے ناموافقت کے بچھاتے تھے۔تحریر وغیرہ کا کام پلنگ پر ہی اکثر فرمایا کرتے اور دوات قلم بستر اور کتا ہیں یہ سب چیزیں پلنگ پر موجودرہا کرتی تھیں۔کیونکہ یہی جگہ میز ، گری اور لائبریری سب کا کام دیتی تھی اور مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفین کا عملی نظارہ خوب واضح طور پر نظر آتا تھا۔ایک بات کا ذکر کرنا میں بھول گیا وہ یہ کہ آپ امیروں کی طرح ہر روز کپڑے نہ بدلا کرتے تھے بلکہ جب ان کی صفائی میں فرق آنے لگتا تب بدلتے تھے۔خوراک کی مقدار قرآن شریف میں کفار کے لئے وارد ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ کا فرسات انتڑیوں میں کھا تا اور مومن ایک میں۔مرادان باتوں سے یہ ہے کہ مومن طیب چیز کھانے والا اور دنیا