حیات طیبہ

by Other Authors

Page 456 of 492

حیات طیبہ — Page 456

456 صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں آپ کا رومال ہوتا تھا۔آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔نہ کہ چھوٹا متعلمینی رومال جو آج کل کا بہت مروّج ہے۔اس کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادو یہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نقدی وغیرہ جو نذ رلوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے۔باندھ لیا کرتے۔گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اُس کی کنجی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا۔اس لئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔گھڑی کو ضرورت کے لئے رکھتے نہ زیبائش کے لئے۔آپ کو دیکھ کر کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے۔یا یہ زیب وزینت دنیوی کا دلدادہ ہے ہاں البتہ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے ماتحت آپ صاف اور ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو۔تو بیت الخلا میں خود فینائل ڈالتے تھے۔عمامہ شریف آپ ململ کا باندھا کرتے تھے اور اکثر دس گز یا کچھ او پر لمبا ہوتا تھا۔شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے اور کبھی اس کا پلہ دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔نوک تو ضرور سامنے ہوتی۔مگرسر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے۔اور گھر میں عمامہ اُتار کر عموما یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے۔مگر نرم قسم کی دوہری جو سخت قسم کی نہ ہوتی۔حجر ا ہیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے۔بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو حجر ا ہیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔مگر بار ہا ئجر اب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔کبھی تو سرا آگے لٹکا رہتا۔اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔کبھی ایک حجر اب سیدھی دوسری اُلٹی۔اگر حجر اب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائز رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایسے موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے۔جن میں سے اُن کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے۔جوتی آپ کی دیسی ہوتی خواہ کسی وضع کی ہو۔پچھواری ، لاہوری ، لدھیانوی سلیم شاہی ، ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔گر گابی حضرت صاحب کو پہنے میں نے نہیں دیکھا۔بجوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڈی بٹھا لیتے۔مگر ایسی جوتی کیساتھ باہر تشریف نہیں لے جاتے تھے لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دیتا ہوں۔وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔گھر میں یا جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا۔تب تو نہیں۔مگر مسجد اقصٰی کو جانے کے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کے لئے تشریف لے