حیات طیبہ

by Other Authors

Page 458 of 492

حیات طیبہ — Page 458

458 دار یا کافر کی نسبت کم خور ہوتا ہے۔جب مومن کا یہ حال ہوا تو پھر انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کا تو کیا کہنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر بھی اکثر ایک سالن ہی ہوتا تھا۔بلکہ سٹو یا صرف کھجور یا دودھ کا ایک پیالہ ہی ایک غذا ہوا کرتی تھی۔اسی سنت پر ہمارے حضرت اقدس علیہ السلام بھی بہت ہی کم خور تھے اور بمقابلہ اس کام اور محنت کے جس میں حضور دن رات لگے رہتے تھے۔اکثر حضور کی غذا دیکھی جاتی تو بعض اوقات حیرانی سے بے اختیار لوگ یہ کہہ اٹھتے تھے کہ اتنی خوراک پر یہ شخص کیونکر زندہ رہ سکتا ہے۔خواہ کھانا کیساہی عمدہ اور لذیذ ہو اور کیسی ہی بھوک ہو آپ کبھی حلق تک ٹھونس کر نہیں کھاتے تھے۔عام طور پر دن میں دو وقت مگر بعض اوقات جب طبیعت خراب ہوتی تو دن بھر میں ایک ہی دفعہ نوش فرمایا کرتے تھے علاوہ اس کے چائے وغیرہ ایک پیالی صبح کو بطور ناشتہ بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر جہاں تک میں نے غور کیا۔آپ کو لذیذ مزیدار کھانے کا ہر گز شوق نہ تھا۔اوقات عموما آپ صبح کا کھانا • ابجے سے لیکر ظہر کی اذان تک اور شام کا نماز مغرب کے بعد سے سونے کے وقت تک کھا لیا کرتے تھے۔کبھی شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا تھا کہ دن کا کھانا آپ نے بعد ظہر کھایا ہو۔شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھانے کی عادت نہ تھی مگر کبھی کبھی کھا لیا کرتے تھے۔مگر معمول دوطرح کا تھا۔جن دنوں میں آپ بعد مغرب عشاء تک باہر تشریف رکھا کرتے تھے اور کھانا گھر میں کھاتے تھے ان دنوں میں یہ وقت عشاء کے بعد ہوا کرتا تھا۔ورنہ مغرب اور عشاء کے درمیان۔مدتوں آپ باہر مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھایا کرتے تھے اور یہ دستر خوان گول کمرہ یا مسجد مبارک میں بچھا کرتا تھا اور خاص مہمان آپ کے ہمراہ دستر خوان پر بیٹھا کرتے تھے یہ عام طور پر وہ لوگ ہوا کرتے تھے جن کو حضرت صاحب نامزد کر دیا کرتے تھے ایسے دستر خوان پر تعداد کھانے والوں کی دس سے بیس پچھیں تک ہو جایا کرتی تھی۔گھر میں جب کھانا نوش جان فرماتے تھے۔تو آپ کبھی تنہا مگر اکثر حضرت اماں جان یا کسی ایک یا سب بچوں کو ساتھ لے کر تناول فرمایا کرتے تھے۔یہ عاجز کبھی قادیان میں ہوتا تو اس کو بھی شرف اس خانگی دستر خوان پر بیٹھنے کا مل جایا کرتا تھا۔سحری آپ ہمیشہ گھر میں ہی تناول فرمایا کرتے تھے اور ایک دو موجودہ آدمیوں کے ساتھ یا تنہا۔سوائے گھر کے باہر جب کبھی آپ کھانا کھاتے تو آپ کسی کے ساتھ نہ کھاتے تھے۔یہ آپ کا حکم نہ تھا مگر خدام آپ کی عزت کی وجہ سے ہمیشہ الگ برتن میں کھانا پیش کیا کرتے تھے اگر چہ اور مہمان بھی سوائے کسی خاص وقت کے الگ