حیات طیبہ — Page 449
449 ساتواں باب شمائل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آخر میں شمائل حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہم اس موقعہ پر صرف ایک مضمون پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں اور وہ مضمون حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا ہے۔آپ فرماتے ہیں: احمدی تو خدا کے فضل سے ہندوستان کے ہر گوشہ میں موجود ہیں۔بلکہ غیر ممالک میں بھی۔مگر احمد کے دیکھنے والے اور نہ دیکھنے والے احمدیوں میں بھی ایک فرق ہے۔دیکھنے والوں کے دل میں ایک سرور اور لذت اس کے دیدار اور صحبت کی اب تک باقی ہے۔نہ دیکھنے والے بارہا تاسف کرتے پائے گئے کہ ہائے ہم نے جلدی کیوں نہ کی اور کیوں نہ اس محبوب کا اصلی چہرہ اس کی زندگی میں دیکھ لیا۔تصویر اور اصل میں بہت فرق ہے اور وہ فرق بھی وہی جانتے ہیں جنہوں نے اصل کو دیکھا۔میرا دل چاہتا ہے کہ احمد (علیہ السلام) کے خلیہ اور عادات پر کچھ تحریر کروں شاید ہمارے وہ دوست جنہوں نے اس ذات بابرکات کو نہیں دیکھا۔حظ اٹھاویں۔خلیه مبارک بجائے اس کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں اور ہر چیز پر خود کوئی نوٹ دُوں یہ بہتر ہے کہ میں سرسری طور پر اس کا ذکر کروں اور نتیجہ پڑھنے والے کی اپنی رائے پر چھوڑ دوں، آپ کے تمام خلیہ کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ ہوسکتا ہے کہ 'آپ مردانہ حسن کے اعلیٰ نمونہ تھے“ مگر یہ فقرہ نامکمل رہے گا اگر اس کے ساتھ دوسرا یہ نہ ہو کہ ی حسنِ انسانی ایک روحانی چمک دمک اور انوار اپنے ساتھ لئے ہوئے تھا۔“ اور جس طرح آپ جمالی رنگ میں اس امت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدا کی قدرت کا نمونہ تھا اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعونت، ہیبت اور استکبار نہ تھے۔بلکہ فروتنی، خاکساری اور محبت کی آمیزش موجود تھی۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ بیان کرتا ہوں کہ جب حضرت اقدس چولہ صاحب کو دیکھنے