حیات طیبہ — Page 450
450 ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے سایہ میں کپڑا بچھادیا گیا۔اور سب لوگ بیٹھ گئے۔آس پاس کے دیہات اور خاص قصبہ کے لوگوں نے حضرت صاحب کی آمد سن کر ملاقات اور مصافحہ کیلئے آنا شروع کیا تو جو شخص آ تا مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف آتا اور ان کو حضرت اقدس سمجھ کر مصافحہ کر کے بیٹھ جاتا۔غرض کچھ دیر تک لوگوں پر یہ امر نہ کھلا۔جب تک خود مولوی صاحب موصوف نے اشارہ سے اور یہ کہہ کر لوگوں کو ادھر متوجہ نہ کیا کہ ” حضرت صاحب یہ ہیں بعینہ ایسا واقعہ ہجرت کے وقت نبی کریم صلعم کو مدینہ میں پیش آیا تھا۔وہاں بھی لوگ حضرت ابوبکر کو رسول خدا سمجھ کر مصافحہ کرتے رہے جب تک کہ انہوں نے آپ پر چادر سے سایہ کر کے لوگوں کو ان کی غلطی سے آگاہ نہ کر دیا۔جسم اور قد آپ کا جسم دبلا نہ تھا نہ آپ بہت موٹے تھے البتہ آپ دوہرے جسم کے تھے۔قد متوسط تھا اگر چہ نا پانہیں گیا۔مگر انداز پانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب ہوگا۔کندھے اور چھاتی کشادہ اور آخر عمر تک سیدھے رہے نہ کمر جھکی نہ کند ھے۔تمام جسم کے اعضاء میں تناسب تھا۔یہ نہیں کہ ہاتھ بے حد لمبے ہوں یا ٹانگیں یا پیٹ اندازہ سے زیادہ نکلا ہوا ہو۔غرض کسی قسم کی بدصورتی آپ کے جسم میں نہ تھی۔جلد آپ کی متوسط درجہ کی تھی نہ سخت نہ کھردری اور نہ ایسی ملائم جیسی عورتوں کی ہوتی ہے۔آپ کا جسم پلپلا اور نرم نہ تھا بلکہ مضبوط اور جوانی کی سی سختی لئے ہوئے۔آخر عمر میں آپ کی کھال کہیں سے بھی نہیں لکی نہ آپ کے جسم پر جھریاں پڑیں۔آپ کا رنگ رنگم چوگندم است و بموفرق بین است زاں سال که آمدست در اخبار سر ورم آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا۔یعنی آپ میں ایک نورانیت اور سرخی جھلک مارتی تھی اور یہ چمک جو آپ کے چہرہ کے ساتھ وابستہ تھی۔عارضی نہ تھی بلکہ دائمی۔کبھی کسی صدمہ، رنج، ابتلا، مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا۔اور ہمیشہ چہرہ مبارک کندن کی طرح دمکتا رہتا تھا۔کسی مصیبت اور تکلیف نے اس چمک کو دُور نہیں کیا۔علاوہ اس چمک اور نور کے آپ کے چہرہ پر ایک بشاشت اور تبسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر یہ شخص مفتری ہے اور اپنے دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اس کے