حیات طیبہ

by Other Authors

Page 428 of 492

حیات طیبہ — Page 428

428 قابل لیڈی ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج ہونا چاہئے۔حضرت اقدس کو غالبا اپنی طبیعت کے کسی مخفی اثر کے ماتحت اس وقت سفر اختیار کرنے میں تامل تھا۔مگر حضرت اماں جان کے اصرار پر آپ تیار ہو گئے۔۱٫۲۶ اپریل کوعلی اصبح آپ کو یہ الہام ہوا۔”مباش ایمن از بازی روزگار اے اس پر آپ نے اس روز تو قف فرمایا اور ۲۷ / اپریل ۱۹۰۸ ء کو لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔جب حضور بٹالہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آج ریز روگاڑی کا انتظام نہیں ہوسکتا۔اس پر آپ نے پہلے تو واپس قادیان جانے کا ارادہ فرمایا۔مگر پھر کچھ سوچ کر بٹالہ میں ہی ریز روگاڑی کے انتظار میں ٹھہر گئے۔۱/۲۹ پریل ۱۹۰۸ ء کو جو گاڑی ملی۔تو آپ اس میں لاہور کو روانہ ہو گئے۔لاہور میں آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا اور خواجہ صاحب کے مکان کو مرجع خلائق بنا دیا۔احمدی اور غیر احمدی احباب حضور کی زیارت کو آنے لگے۔ایک معزز غیر احمدی نے جو کابل کے شہزادوں میں سے تھے اور شہزادہ محمد ابراہیم خاں نام تھا۔حضرت اقدس کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا ، لیکن حضور نے کسی وجہ سے ان کی قیام گاہ پر تشریف لے جانا مناسب نہ سمجھا۔اس پر شہزادہ صاحب موصوف نے اس درخواست کے ساتھ حضور کی خدمت میں پچاس روپئے بھجوا دیئے کہ حضور میری طرف سے گھر پر ہی کھانا تیار کروا کر دعوت کے طور پر تناول فرما لیں۔وہاں چونکہ ذرا زیادہ قیام کا ارادہ ہو گیا۔اس لئے حضرت مولانا نورالدین صاحب، حضرت مولانا محمد احسن صاحب امروہوی اور دیگر احباب بھی لاہور پہنچ گئے۔اخبار بدر بھی عارضی طور پر لاہور منتقل ہو گیا تا کہ روزانہ تازہ بتازہ خبر یں احباب کو پہنچ سکیں۔لاہور میں مخالفت کا بڑا زور تھا اور حضرت اقدس کے پہنچنے پر تویہ مخالفت اور تیز ہوگئی۔روزانہ آپ کی فرودگاہ کے سامنے شریر اور بد باطن لوگ اڈہ جما کر نہایت ہی گندے اور اشتعال انگیز لیکچر دینے لگے۔جماعت کے کچھ احباب لوگوں کی ان شرارتوں کو دیکھ کر سخت پیچ و تاب کھاتے تھے۔جس پر حضور نے احباب کو جمع کر کے یہ نصیحت فرمائی کہ ان گالیوں کو آپ لوگ صبر سے برداشت کریں اور ضبط نفس سے کام لیں۔مغلوب الغضب انسان بہادر نہیں ہوتا۔بہادر وہ ہے جو غصہ کو پی کر اپنے نفس پر قابو حاصل کر کے دکھاوے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ خدام نے آپ کی نصیحتوں پر عمل کیا اور بہت صبر سے کام لیا۔بد اخلاق لوگ تو ان نامعقول حرکات میں مبتلا تھے لیکن شریف طبقہ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا خیال پیدا کیا اور معزب زلوگ پے در پے آپ کے پاس آتے اور فائدہ اُٹھاتے رہے اسی دوران میں 9 رمئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو پھر الہام ہوا۔الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ إِنَّ اللهَ يَحْمِلُ كُلَّ حِمْلٍ یعنی کوچ اور پھر کوچ۔اللہ تعالیٰ سارا بوجھ خود اُٹھا لے گا۔“ ہے ل بدر جلد ۷ نمبر ۱۷ والحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ ۲ احکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ و بدرجلد ۷ نمبر ۲۱۰