حیات طیبہ

by Other Authors

Page 429 of 492

حیات طیبہ — Page 429

429 یہ حضور کے وصال کی گھڑی کے بالکل قریب آجانے کی طرف صریح اشارہ تھا۔مگر حضور نہایت استقلال کے ساتھ اپنے کام میں منہمک رہے اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔البتہ انبیاء کی سنت کے مطابق آپ نے اس الہام کو ظاہری طور پر پورا کرنے کے لئے اپنی جائے قیام کو بدل لیا اور فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا کوچ ہی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔پس آپ خواجہ صاحب کے مکان سے منتقل ہو کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں تشریف لے گئے۔چند دن بعد جو قادیان سے ایک مخلص احمدی با بوشاہ دین صاحب سٹیشن ماسٹر کی وفات کی خبر پہنچی تو لوگوں کی توجہ اس طرف منتقل ہو گئی کہ شاید کوچ والے الہام سے بابو صاحب کی موت کی طرف ہی اشارہ تھا۔مگر قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس کو خوب پستہ تھا کہ یہ الہام حضور کے متعلق ہے۔حضرت اقدس کی لاہور میں آمد کی خبر سن کر بیر و نجات سے احباب کثرت کے ساتھ تشریف لائے تھے۔احمدیہ بلڈنگس میں جہاں اب مسجد ہے۔یہ جگہ خالی پڑی ہوئی تھی۔اس جگہ شامیانے لگا کر نماز جمعہ کا انتظام کیا جاتا تھا۔پروفیسر کلیمنٹ ریگ کی حضور سے ملاقات حضرت اقدس جب لاہور میں تشریف لائے تو انگلستان کے ایک مشہور سیاح ہیئت دان اور لیکچرار جو بہت مدت تک آسٹریلیا میں گورنمنٹ کے صیغہ ہیئت میں ملازمت کر چکے تھے۔وہ بھی اتفاق سے لاہور آئے ہوئے تھے۔انہوں نے ریلوے اسٹیشن لاہور کے قریب علم ہیئت پر میجک لینٹرن کے ذریعہ ایک لیکچر دیا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی اس لیکچر میں موجود تھے۔لیکچر ختم ہونے کے بعد حضرت مفتی صاحب نے اس پر وفیسر سے حضرت اقدس کے دعاوی اور دلائل کا ذکر کیا۔پروفیسر صاحب نے حضرت اقدس کی ملاقات کا شوق ظاہر کیا۔چنانچہ وہ اور اُس کی میمصاحبہ دو دفعہ حضرت اقدس کی ملاقات کیلئے احمد یہ بلڈنگس میں آئے اور جن سوالات کا وہ تسلی بخش جواب کہیں سے بھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت اقدس سے ملاقات کے نتیجہ میں انہیں اپنے سوالوں کے تسلی بخش جوابات مل گئے۔اور وہ حضور کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے یہ کہہ کر رخصت ہوئے کہ ” مجھے اپنے سوالات کا جواب کافی اور تسلی بخش ملنے سے بہت خوشی ہوئی۔اور مجھے ہر طرح سے اطمینان کامل حاصل ہو گیا۔اور یہ اطمینان دلانا خدا کے نبی کے سواکسی میں نہیں۔‘1 له بدر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء پروفیسر صاحب کے مشہور سوالات یہ تھے:۔(۱) دنیا کب سے ہے؟ (۲) گناہ کی حقیقت کیا ہے؟ (۳) گناہ کا وجود ہی کیوں ہے؟ (۴) کیا موت کے بعد انسان کو زندگی ملے گی؟ (۵) کیا روحوں سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ (1) اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ( ۷ ) کیا خُدا محب ہے؟ (۸) اعلیٰ طبقہ کا جانور اونی کو کیوں کھاتا ہے؟ (۹) انسان کب سے ہے؟ (۱۰) ڈارون کی تھیوری کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ (۱۱) کیا اجرام سماوی اپنے اندر کوئی تاثیر رکھتے ہیں؟ (۱۲) روحوں کی کتنی اقسام ہیں؟ (۱۳) کفارہ کے عقیدہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ وغیرہ