حیات طیبہ

by Other Authors

Page 412 of 492

حیات طیبہ — Page 412

412 ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کریں کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے۔وہ پہلے مر لے جائے۔“ حضرت اقدس کے اس چیلنج کا ڈوئی صاحب نے تو کوئی جواب نہ دیا۔مگر امریکہ کے اخبارات نے اس پیشگوئی کا ذکر اچھے ریمارکس کے ساتھ کیا۔چنانچہ ایک اخبار ار گوناٹ سان فرانسسکو نے اپنی یکم دسمبر ۱۹۰۲ء کی اشاعت میں بعنوان ” انگریزی و عربی ( یعنی عیسائیت اور اسلام ) کا مقابلہ دُعا لکھا کہ: ”مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جوڑوئی کولکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو۔اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں۔پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے یہ دعا کرے اور جس کی دُعا قبول ہو وہ سچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔دُعا یہ ہوگی۔کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے۔خدا اُسے پہلے ہلاک کرے۔یقیناً یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔“ سے حضرت اقدس اس کا اخبار منگواتے تھے اور دیکھتے تھے کہ وہ اسلام کی عداوت میں برابر ترقی کرتا چلا جارہا ہے۔اس پر آپ نے ۱۹۰۳ء میں بھی ایک چٹھی کے ذریعہ اس مباہلہ کے چیلنج کو دوہرایا۔چنانچہ آپ نے لکھا کہ: میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے۔پچاس برس کا جوان ہے، لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی۔کیونکہ مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا۔بلکہ خدا جو احکم الحاکمین ہے۔وہ اس کا فیصلہ کرے گا اور اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا۔۔۔۔۔۔تب بھی یقیناً سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔“ سے جو چٹھی حضور اسے بھیجتے تھے۔چونکہ اس کی نقلیں امریکہ کے انگریزی اخبارات میں بھی بھجواتے تھے۔اس لئے ۱۹۰۳ء میں کثرت کے ساتھ اخبارات نے حضرت اقدس کے اس چیلنج مباہلہ کا ذکر کیا۔چنانچہ بتیس اخبارات کے مضامین کا خلاصہ تو حضرت اقدس نے تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰ تا ۷۲ کے حاشیہ میں درج فرمایا ہے۔جب لوگوں نے اسے بہت تنگ کیا اور اصرار کے ساتھ اس سے اس مباہلہ کے چیلنج کا جواب دینے کے لئے کہا۔تو ستمبر اور دسمبر ۱۹۰۳ء کے بعض پر چوں میں اُس نے لکھا کہ: ”ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا ے ریویو آف ریجنز پر چه ماه تمبر ۱۹۰۲ء سے بحوالہ تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ اے حاشیہ ۳، اشتہار ۲۳ اگست ۱۹۰۳ء بحوالہ تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ اے حاشیہ