حیات طیبہ — Page 358
358 حتی کہ زار روس جو اس زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ مانا جاتا تھا۔اس کی حالتِ زار کا نقشہ بھی صاف اور واشگاف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے آج دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کس طرح پہلی جنگ عظیم میں دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ اختیار رکھنے والا بادشاہ جس کی جاہ و حشمت کی نظیر کم از کم یورپ کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر تھی اور جس کی شوکت وسطوت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ اس کی نگاہ التفات کے منتظر رہتے تھے ہاں ہاں وہ طاقتور اور جابر بادشاہ جو اپنے آپ کو زار کہتا تھا۔یعنی کسی کی حکومت نہ مانے والا اور سب پر حکومت کرنے والا۔کس طرح اسے ۱۵ مارچ ۱۹۱۷ء کو دن کے سوا گیارہ بجے اپنے ہاتھ سے یہ اعلان لکھنا پڑا کہ وہ اور اس کی اولا د تخت روس سے دست بردار ہوتے ہیں۔تخت سے دستبرداری کا اعلان کرتے وقت نکولس ثانی ( زار روس ) کا یہ خیال تھا کہ اسے اس کی ذاتی جائیداد سے جو کروڑوں روپے کی تھی بیدخل نہیں کیا جائے گا۔اور وہ اپنی زندگی کے باقی ماندہ ایام خاموشی کے ساتھ اس جائیداد کے سہارے امن کے ساتھ گزار دے گا۔مگر اسے کیا معلوم تھا کہ قضا و قدر میں اس کے لئے مسلسل اور بے پناہ مظالم کی پاداش میں کیا کیا دکھ اُٹھانے مقدر ہیں۔۱۵ مارچ ۱۹۱۷ء کو وہ تخت حکومت سے دستبردار ہوا اور ۲۱ مارچ کو قید کر کے سکوسیلو بھیج دیا گیا۔جہاں اُسے ایک شاہی محل میں نظر بند کر دیا گیا۔گو یہ بھی ایک مطلق العنان بادشاہ کے لئے بڑی سزا تھی اور اس کی حالتِ زار ہونے کا ایک کافی ثبوت تھا۔مگر علم الہی میں اس کے لئے زیادہ تکلیفیں مقدر تھیں۔ابھی تک حکومت روس کی باگ ڈورشاہی خاندان کے ایک فرد شہزادہ دلواؤ کے ہاتھ میں تھی۔جس کی وجہ سے قید میں زار کے ساتھ احترام کا سلوک ہورہا تھا۔مگر جولائی میں اس شہزادہ کو بھی علیحدہ ہونا پڑا۔اور حکومت کے سر براہ ”کرنسکی“ ہو گئے۔جنہیں زار روس کے ساتھ کوئی خاص ہمدردی نہ تھی تاہم ان کے زمانہ میں بھی زار روس کی قید کی سختیاں انسانیت کی حدود سے آگے نہیں نکلی تھیں ، لیکن سات نومبر کو بولشویک بغاوت نے کرنسکی کی حکومت کا بھی خاتمہ کر دیا۔اب زار پر سختیوں کا وہ خطرناک دور شروع ہوا کہ جسے سُن کر سنگدل سے سنگدل انسان بھی کانپ جاتا ہے۔زار کو سکو سیلو کے شاہی محل سے نکال کر مختلف جگہوں میں رکھا گیا۔کچھ مدت اسے ایک غلیظ اور تنگ و تاریک کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔جہاں چوہوں کے بل، چڑیوں کے گھونسلے اور مکڑی کے جالے تھے۔اس کے بعد اسے اکٹیٹر ن برگ بھیج دیا گیا۔جو کوہ یورال کے مشرق کی طرف ایک چھوٹا سا شہر ہے۔یہاں اسے دو کمروں کے ایک بوسیدہ مکان میں بند کر دیا گیا اور کھانے کیلئے دن میں دومرتبہ سیاہ آٹے کی باسی روٹی اور سبزیوں کا گاڑھا سا شور با پیش کیا جاتا تھا۔چوبیس گھنٹوں میں صرف پانچ منٹ کے لئے انہیں ملحقہ باغیچہ میں گھومنے کی اجازت تھی۔نگرانی کرنے والے سپاہی اس شاہی خاندان کے ساتھ نہایت ہی ظالمانہ سلوک کرتے۔ایک دن ایک ظالم سپاہی نے زارینہ کا بٹوا چھین کر اس میں سے یہ کہہ کر تمام نقدی نکال لی کہ تمہیں اب روپیہ کی ضرورت نہیں“ نوجوان شہزادیوں پر آوازے گئے جاتے۔غلیظ اور گندی گالیاں دی جاتیں۔آخر ایک دن