حیات طیبہ — Page 357
357 آئیگا قمبر خدا ހނ خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھا ئینگے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمین ہو جائے گی زیروزبر نالیاں خون کی چلیں گی جیسے آب رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثلِ درختان چنار ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بےخود راہوار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں شرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی و بردبار یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشفی رنگ میں حضرت اقدس کو آنے والی جنگ عظیم کا نقشہ دکھایا گیا تھا۔چنانچہ ۱۹۱۴ء سے لے کر ۱۹۱۸ ء تک جو جنگ عظیم ہوئی۔بہت حد تک اُس کی تفاصیل ان اشعار میں بیان کر دی گئی ہیں۔