حیات طیبہ

by Other Authors

Page 359 of 492

حیات طیبہ — Page 359

359 زار ینہ کو سامنے کھڑا کر کے اس کی نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی۔۱۶ جولائی کو گھٹاٹوپ اندھیری رات میں ایک نقاب پوش کما نڈر مکان کے اندر داخل ہوا اور شاہی خاندان کو جگاتے ہوئے اُس نے بلند آواز سے کہا کہ شہر میں سخت بلوہ ہو گیا ہے اور عوام آپ لوگوں کو قتل کرنے کے لئے انڈے چلے آرہے ہیں۔اس لئے جلد کپڑے پہنے اور نیچے تہ خانے میں چھپ جائیے۔یہاں سے آپ کو جلد ہی کسی محفوظ مقام میں پہنچا دیا جائے گا۔کمانڈر کے یہ الفاظ سُن کر ڈر اور خوف کے مارے تمام افراد پر دہشت لرزہ طاری ہو گیا۔زارینہ کی تو یہ حالت تھی کہ اس کے لئے کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔یہ مشکل وہ نیچے اتری جہاں اُسے ایک ٹوئی ہوئی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ان لوگوں کا نیچے اتر نا تھا کہ اس وقت باغی سپاہی تہ خانے میں آدھمکےاور للکار کر کہنے لگے که تمہارے حامیوں نے تمہیں بچانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔اب موت کے لئے تیار ہو جاؤ۔“ اس کے بعد یکا یک ایک سپاہی نے گولی چلا دی جو شہنشاہ کے جگر کو چیرتی ہوئی گزرگئی۔زار کے گرتے ہی گولیوں کو بوچھاڑ شروع ہو گئی۔زارینہ اور شہزادیوں نے چیختے چلاتے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے چھپ کر اپنے آپ کو بچانے کی بہت کوشش کی مگر سپاہیوں نے ان کے سینوں میں سنگینیں گھونپ گھونپ کر ان کی چیخوں کو خاموش کر دیا۔لاشوں کے تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو جانے کے بعد ایک کتیا باولی ہو کر نعشوں کے درمیان اپنی نھی مالکہ کو ڈھونڈتی پھرتی تھی کہ ایک سپاہی نے لپک کر اسے بھی سنگین میں جالیا۔اس کے بعد سپاہیوں نے لاشوں کے ٹکڑے کئے۔ان پر مٹی کا تیل چھڑ کا اور آگ لگا دی اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے نبی کی بات پوری ہوئی کہ موعودہ زلزلہ سے مراد زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار زار روس کے حالات سے یہ امر بالکل پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ پہلی جنگ عظیم یقینا زلزلۂ موعودہ ہی کا ایک حصہ تھی اور یہ امر کہ حضرت اقدس کو جو یہ فرمایا گیا ہے کہ چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشاں کی پنج بار“ اس سے آیا جنگیں مراد ہیں یا کوئی زلزلہ بھی اس سے مراد ہو سکتا ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے مگر ہمارا اس امر پر پختہ ایمان ہے کہ دنیا کے لئے پانچ بار اس قدر شدید تباہی مقدر ہے کہ جس کی نظیر گذشتہ تاریخ میں ڈھونڈے سے نہیں ملے گی۔جن لوگوں نے بہار اور کوئٹہ کے زلزلے دیکھے ہیں یا اخبارات میں ان کے حالات پڑھے ہیں۔