حیات طیبہ — Page 352
352 کریں۔چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی فورا اتعمیل کی گئی۔اس باغ میں ایک چھوٹی سی بستی آباد ہوگئی۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دیگر احباب باغ میں رہنے لگے۔اخبارات اور انجمن کے دفاتر بھی باغ میں منتقل ہو گئے اور متواتر تین ماہ تک آپ نے احباب سمیت اسی باغ میں قیام فرمایا اور ۲؎ جولائی ۱۹۰۵ ء کو واپس اپنے مکانوں میں تشریف لے گئے۔اس کے بعد بھی آپ نے متعدد اشتہاروں ”الدعوت الانذار النداء من وحی السماء “ اور زلزلوں کی خبر بار سوم“ کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ بدیوں کو ترک کر کے نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر گامزن ہوں کہ خدا تعالیٰ کے غضب سے بچنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔حضور کے ان ہمدردی بھرے اشتہارات پر بھی لوگوں میں برہمی وافروختگی پیدا ہوئی۔چنانچہ پیسہ اخبار اور بعض اور لوگوں نے اعتراض کیا کہ زلزلوں کے آنے کی خبریں شائع کر کے خواہ مخواہ لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور گورنمنٹ کو بھی توجہ دلائی کہ ان کو ایسی وحشت ناک خبریں شائع کرنے سے روکے۔اشتہار ضروری گذارش لائق توجہ گورنمنٹ حضرت اقدس نے اس قسم کے اعتراضوں کے جواب میں الارمئی ۱۹۰۵ ء کو ایک اشتہار ” ضروری گذارش لائق توجہ گورنمنٹ“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ: یہ عجیب زمانہ ہے کہ ہمدردی کی بھی ناشکری کی جاتی ہے۔بعض اخباروں والے خاص کر پیسہ اخبار لا ہور اس بات سے بہت ناراض ہوئے ہیں کہ میں نے دوسرے زلزلہ کی خبر کیوں شائع کی ہے حالانکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ جو کچھ میں نے شائع کیا۔وہ بد نیتی سے نہیں ہے اور نہ کسی کو آزار دینا اور تشویش میں ڈالنا میرا مقصد ہے۔1 اور حضور نے اس اشتہار کے آخری حصہ میں لکھا کہ : بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ اشتہار اس غرض سے لکھے گئے ہیں تا لوگ ڈر کر ان کی بیعت قبول کر لیں مگر اس حق پوشی کا میں کیا جواب دوں۔میں بار بار انہیں اشتہارات میں لکھ چکا ہوں کہ اصلاح نفس اور تو بہ سے اس جگہ میری یہ مراد نہیں ہے کہ کوئی ہندو یا عیسائی مسلمان ہو جائے یا میری بیعت اختیار کرے۔بلکہ یادرکھنا چاہئے کہ اگر کسی کا مذہب غلطی پر ہے تو اس غلطی کی سزا کے لئے یہ دنیا عدالت گاہ نہیں ہے۔اس کے لئے عالم آخرت مقرر ہے اور جس قدر قوموں کو پہلے اس سے سزا ہوئی ہے مثلاً آسمان سے پتھر برسے یا طوفان سے غرق کئے گئے یا زلزلہ نے اُن کوفنا تبلیغ رسالت جلد دہم