حیات طیبہ — Page 353
353 کیا۔اس کا یہ باعث نہیں تھا کہ وہ بت پرست تھے یا آتش پرست یا کسی اور مخلوق کے پرستار تھے۔اگر وہ سادگی اور شرافت سے اپنی غلطیوں پر قائم ہوتے تو کوئی عذاب ان پر نازل نہ ہوتا، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھ کے سامنے سخت گناہ کئے اور نہایت درجہ شوخیاں دکھلائیں۔اور ان کی بدکاریوں سے زمین ناپاک ہو گئی۔اس لئے اسی دنیا میں ان پر عذاب نازل ہوا۔خدا کریم ورحیم ہے اور غضب میں دھیما ہے۔اگر اس زمانہ کے لوگ اس سے ڈریں اور بدکاریوں اور ظلمتوں اور طرح طرح کے برے کاموں پر ایسی جرات نہ کریں تو پھر ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوگا۔‘اء مولانا ابوالکلام آزاد کے برادر مکرم ابوالنصر مولانا غلام یسین آہ کی قادیان آمد۔اپریل ۱۹۰۵ء انہی دنوں جبکہ حضور خدام سمیت اپنے باغ میں قیام پذیر تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے بھائی ابوالنصر صاحب قادیان میں تشریف لائے۔وہ جو اثرات اپنے دل میں لے کر گئے ان کا ذکر انہوں نے اخبار "وکیل" امرتسر میں شائع کیا۔وہ لکھتے ہیں: میں نے اور کیا دیکھا۔قادیان دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی۔مہمان رہا۔میرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہئے۔میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔مرزا صاحب نے ( جبکہ دفعتا گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤروٹی تجویز فرمائی۔آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ میں ( جو خود انہیں کی ملکیت ہے) قیام پذیر ہیں۔بزرگانِ ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریبا تین ہزار آدمیوں کی ہے مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔۔۔۔۔۔۔رستے کچے اور ناہموار ہیں۔بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوق لے گئی ہے۔آتے ہوئے یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی۔نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت اُس میں نصف کی تخفیف کردی۔اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا۔ل تبلیغ رسالت جلد دہم