حیات طیبہ

by Other Authors

Page 351 of 492

حیات طیبہ — Page 351

351 صاحب بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ مجھے مرزا صاحب نے کذاب کہا ہے حالانکہ کذاب اس کو کہتے ہیں جو بڑا ہی جھوٹا ہو اور بار بار اس کے جھوٹ ثابت ہو چکے ہوں۔اس لئے ڈویژنل جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ : ”ہمارے خیال میں ان ہتک آمیز الفاظ کا استعمال یہاں تک درست تھا کہ اگر الفاظ مذکور کسی قدر اس سے بڑھ کر بھی ہوتے تب بھی ہم مستغیث کی مدد نہ کرتے۔“ اس فیصلہ کے بعد اس سال آپ کی پیشگوئی کے مطابق جو بڑا نشان ظاہر ہواوہ کانگڑہ کے علاقہ کا زلزلہ تھا۔جو ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کو شمالی ہندوستان میں آیا۔اس زلزلہ سے قریباً ایک سال قبل آپ اپنا یہ الہام شائع فرما چکے تھے کہ عَفَتِ الرِّيَارُ مُحِلُّهَا وَمُقَامُهَا “ یعنی عنقریب ایک تباہی آنے والی ہے جس میں سکونت کی عارضی جگہیں اور مستقل جگہیں 66 دونوں ہی مٹ جائیں گی۔“ اور اس کے بعد جب زلزلہ موعودہ کے دن قریب آگئے تو آپ نے ایک اشتہار ” الوصیت“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ : ”اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت قریب آ گیا ہے۔میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے میرے منہ پر یہ الہام الہی تھا کہ ”موتا موتی لگ رہی ہے کہ میں بیدار ہو گیا اور اس وقت جو ابھی کچھ حصہ رات کا باقی ہے۔میں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کیا۔دوستو! اٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ کہ اس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آگیا ہے۔اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجر تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔‘ہے اس کے بعد ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کو وہ ہیبت ناک زلزلہ آیا۔جس نے دنیا کے سامنے ایک قیامت کا نمونہ پیش کر دیا۔حضرت اقدس کا باغ میں قیام اپریل تا جون ۱۹۰۵ ء ! چونکہ آپ کو بار بار زلزلوں کے متعلق الہامات ہو رہے تھے۔اس لئے ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے معا بعد اسی روز آپ نے حکم دیا کہ کچھ عرصہ کے لئے احباب بہشتی مقبرہ کے متصل جو حضور کا باغ تھا۔اس میں قیام له الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹۰۴۱۸ء ۲۶ از اشتہار ” الوصیت محرره در میانی رات ۲۶، ۲۷ فروری ۱۹۰۵ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دهم