حیات طیبہ — Page 331
331 انہی کے دستِ مبارک سے ادا کرائی گئی تھی۔آپ اسلام کا بہت دردر کھتے تھے اور دُعائیں کرتے رہتے تھے کہ اللہ تعالی اسلام کی حفاظت کے لئے جلد کسی عظیم الشان مجد دکو مبعوث کرے۔اسی اثناء میں کسی طرح سے حضرت اقدس کی بعض کتابیں مل گئیں۔بس پھر کیا تھا۔ایک نظر ڈالتے ہی ہزار جان سے فدا ہو گئے۔ملاقات کا شوق پیدا ہوا مگر کوئی ذریعہ نظر نہ آتا تھا۔آخر آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے حج کرنے کی تحریک پیدا کی۔اس پر خیال آیا کہ راستہ میں قادیان سے بھی ہوتے جائیں گے۔آپ نے اپنے ارادہ حج کا ذکر امیر کا بل سے بھی کیا۔انہوں نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اخراجات سفر کیلئے کچھ روپیہ بھی نذر کیا۔آپ اپنے ملک سے روانہ ہو کر غالبا اکتوبر ۱۹۰۲ء میں قادیان پہنچے اور حضرت اقدس کو دیکھ کر آپ کے عشق و محبت میں بالکل محو ہو گئے۔یہاں تک کہ حج کا وقت گزرگیا۔آپ کئی ماہ قادیان میں مقیم رہے۔پیچھے گزر چکا ہے کہ مولوی کرم الدین والے مقدمہ میں حضرت اقدس نے جو جہلم کا سفر اختیار کیا تھا۔اس میں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب بھی حضور کے ہمراہ تھے۔صاحبزادہ صاحب کی اپنے ملک کو واپسی اور لاہور میں قیام ہوا کہ : آپ کے ایک رفیق میاں احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ جب آپ قادیان میں تھے تو آپ کو بار بار یہ الہام اس راہ میں اپنا سر دیدے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے۔“ ایک دفعہ فرمایا کہ: مجھے الہام ہوتا ہے کہ آسمان شور کر رہا ہے اور زمین اس شخص کی طرح کانپ رہی ہے جو تپ ولرزہ میں مبتلا ہو۔دنیا اس کو نہیں جانتی۔یہ امر ہونے والا ہے۔“ جب آپ حضرت اقدس سے اجازت حاصل کر کے قادیان سے رخصت ہونے لگے تو حضور ان کی مشایعت کے لئے دُور تک اُن کیسا تھ تشریف لے گئے۔رخصت ہونے کے وقت حضرت صاحبزادہ صاحب پر سخت رقت طاری ہوگئی اور فرط محبت میں آپ بے اختیار حضرت کے قدموں پر گر گئے۔دیکھنے والے بزرگوں کا بیان ہے کہ ان کی اس حالت کو دیکھ کر حضرت اقدس بھی آبدیدہ ہو گئے اور مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔تا ہم آپ یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے پاؤں پر گرے یا تعظیما آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگائے۔آپ نے صاحبزادہ صاحب کو اُٹھنے کیلئے کہا، مگر وہ بدستور اسی طرح پڑے رہے۔اس پر آپ نے فرمایا۔الْأَمْرُ فَوقَ الادب حضور کا یہ فرمان سُن کر آپ فوڑا کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور! میری بیتابی اور بیقراری کی وجہ یہ