حیات طیبہ

by Other Authors

Page 330 of 492

حیات طیبہ — Page 330

330 فیصلہ کر دیتا اور ے جنوری ۱۹۰۵ء کو اپنے فیصلہ میں یہاں تک لکھ دیا کہ اگر کرم الدین کے خلاف اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ لکھے جاتے تو وہ اس کا مستحق تھا۔حضرت اقدس نے اس مقدمہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ اور پھر ایسا ہوا کہ قریبا بیس پچیس دن کے عرصہ میں دو بیٹے اس (یعنی لالہ آتما رام مجسٹریٹ) کے مر گئے اور آخر یہ اتفاق ہوا کہ آتمارام سزائے قید تو مجھ کو نہ دے سکا۔اگر چہ فیصلہ لکھنے میں اس نے قید کرنے کی بنیاد بھی باندھی۔مگر اخیر پر خدا نے اس کو اس حرکت سے روک دیا لیکن تاہم اس نے سات سو روپیہ جرمانہ کیا۔پھر ڈویژنل جج کی عدالت سے عزت کیساتھ میں بری کیا گیا اور کرم دین پر سزا قائم رہی اور میرائجر مانہ واپس ہوا۔مگر آتما رام کے دو بیٹے واپس نہ آئے۔“ اے قارئین کرام کی سہولت کے لئے ہم نے مولوی کرم الدین کے ساتھ تعلق رکھنے والے مقدمات کا اکٹھا ذکر کر دیا ہے۔اب ہم پھر ابتداء ۱۹۰۳ء کے واقعات کا ذکر شروع کرتے ہیں۔ولادت صاحبزادی امته النصیر صاحبه ۲۸ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء ۲۷ ۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء کی درمیانی شب رات کے بارہ بجے حضرت اقدس کو الہام ہوا۔غاسق الله یعنی اللہ تعالیٰ کوئی تاریکی نازل کرنے والا ہے۔اس پر آپ اسی وقت اُٹھے اور دُعاؤں میں لگ گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت اماں جان کو تو بچا لیا مگر جولڑ کی پیدا ہوئی۔وہ چند ماہ بعد ۳ دسمبر ۱۹۰۳ء کو آپ کے الہام غاسق اللہ کے مطابق وفات پاگئی۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔بیت الدعا کی تعمیر حضرت اقدس کی عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ بیت الفکر کے ساتھ ایک چھوٹا سا حجرہ بیت الدعا کے طور پر تعمیر کیا جائے۔جس میں سوائے دُعا کے اور کوئی کام نہ ہو۔چنانچہ مارچ ۱۹۰۳ء میں وہ حجرہ تعمیر ہو گیا۔سے حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید صاحبزادہ عبداللطیف صاحب افغانستان کے علاقہ خوست کے رہنے والے صاحب الہام اور صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔سارے ملک میں ان کی بزرگی مسلم تھی۔افغانستان میں ان کے ہزار ہا مرید تھے۔ان کے تقوی وطہارت اور علم و فضل کا یہ حال تھا کہ امیر کائل حبیب اللہ کی تاجپوشی کے موقعہ پر دستار بندی کی رسم لے حقیقة الوحی صفحہ ۱۲۲ الحکم ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء