حیات طیبہ

by Other Authors

Page 332 of 492

حیات طیبہ — Page 332

332 ہے کہ میرے دل کو یقین ہے کہ اس زندگی میں میں پھر آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا۔یہ آپ کا اب آخری دیدار ہے جو میں کر رہا ہوں۔یہ عرض کر کے بادل بیقرار و چشم اشکبار رخصت ہوئے۔لاہور سے آپ نے کچھ کتابیں خریدنی تھیں۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل جن کو روایات کے ایک بہت بڑے ذخیرہ کا حامل ہونے کی وجہ سے میں احمدیت کا ابو ہریرہ کہا کرتا ہوں۔انہوں نے غالبا ۱۹۳۹ ء میں جبکہ میں نظارت تالیف واشاعت کی طرف سے روایات صحابہ اجمع کرنے کی غرض سے مختلف شہروں اور قصبوں میں گھوم رہا تھا۔متعدد بار مجھے یہ واقعہ سنایا۔کہ حضرت صاحبزادہ صاحب پگڑی پر چادر لپیٹے رکھتے تھے اور ایک بڑا سا جبہ زیب تن رکھتے تھے۔دورانِ قیام لاہور میں ایک صاحب نے کسی تقریب پر کچھ احباب کی دعوت کی۔اس میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی تشریف لے گئے۔مغل صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ اس دعوت میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی معیت میں میں بھی گیا تھا۔جب آپ دعوت کے کمرہ میں پہنچے تو دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے نہایت ہی قرینے سے بچنے ہوئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب ابھی بیٹھے ہی تھے کہ آپ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور آپ نے فارسی زبان میں مجھے فرمایا کہ تم لوگ مجھے یہاں گو کھلانے کے لئے لائے ہو۔یہ کہ کر اٹھے اور تیز تیز چلنے لگے۔آپ کا جبہ ہوا میں اُڑ رہا تھا۔راستہ میں مجھے آپ نے چار آنے دیئے اور فرمایا کہ نان اور کباب خرید لو۔میں نے حکم کی تعمیل کی۔پھر وہ نان کباب جو کافی مقدار میں تھے۔ہم لوگوں نے گمٹی والی مسجد میں جو اس وقت جماعت احمدیہ کے پاس تھی۔بیٹھ کر کھائے۔میزبان نے جب اس طرح حضرت صاحبزادہ صاحب کو واپس جاتے ہوئے دیکھا تو وہ آپ کی کشفی نظر سے بہت متاثر ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دعوت سودی روپئے سے کی گئی ہے۔لاہور سے چل کر آپ اپنے وطن خوست تشریف لے گئے۔راستہ میں آپ بار بار اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خُون کی محتاج ہے۔بعد کے حالات چونکہ خود حضرت اقدس نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرمائے ہیں۔لہذا وہی خلاصۂ حضور ہی کے الفاظ میں بیان کئے جاتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت ۱۴ ؍ جولائی ۱۹۰۳ء مولوی صاحب جب سرزمین علاقہ ریاست کابل کے نزدیک پہنچے۔تو علاقہ انگریزی میں ٹھہر کر بریگیڈیر محمد حسین کو توال کو جو اُن کا شاگرد تھا۔ایک خط لکھا کہ اگر آپ امیر صاحب سے میرے آنے کی اجازت حاصل کر کے مجھے اطلاع دیں۔تو امیر صاحب کے پاس بمقام کابل میں حاضر ہو جاؤں۔بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لے گئے کہ وقتِ سفرا میر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر ٹھہرنے سے پورا نہ ہوسکا۔اور لے وہ روایات جو خاکسار نے رجسٹروں میں درج کی تھیں ، خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔