حیات طیبہ — Page 303
303 ہوگا کہ میرے گھر کی چار دیوار کے اندر رہنے والے مخلص لوگ اس بیماری کی موت سے محفوظ رہیں گے اور میرا تمام سلسلہ نسبتا و مقابلتا طاعون کے حملہ سے بچا رہے گا اور وہ سلامتی جو ان میں پائی جائے گی اُس کی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کر دے نہیں آئے گی۔الا کم اور شاذ و نادر۔اے شاذ و نادر کے طور پر کسی موت سے نشان کا مرتبہ کم نہیں ہو سکتا پھر فرمایا: کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بذریعہ طاعون کوئی فوت ہو جائے۔تو نشان کے قدر و مرتبہ میں کوئی خلل آئے گا۔کیونکہ پہلے زمانوں میں موسیٰ اور یسوع اور آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا تھا کہ جن لوگوں نے تلوار اٹھائی اور صدہا انسانوں کے خون کئے ان کو تلوار سے ہی قتل کیا جائے اور یہ نبیوں کی طرف سے ایک نشان تھا جس کے بعد فتح عظیم ہوئی۔حالانکہ بمقابل مجرمین کے اہل حق بھی ان کی تلوار سے قتل ہوتے تھے مگر بہت کم اور اس قدر نقصان سے نشان میں کچھ فرق نہیں آتا تھا۔پس ایسا ہی اگر شاذ و نادر کے طور پر ہماری جماعت میں سے بعض کو باعث اسباب مذکورہ طاعون ہو جائے تو ایسی طاعون نشان الہی میں کچھ حرج انداز نہیں ہوگی۔کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے بلکہ بطور نشانِ الہی کے نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعون کے ذریعہ سے یہ جماعت بہت بڑھے گی اور خارق عادت ترقی کرے گی اور ان کی یہ ترقی تعجب کی نظر سے دیکھی جائے گی۔‘ہے حضرت اقدس کی اس تشریح کے مطابق طاعون کے ایام میں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی حفاظت کا ایک ایساز بردست نشان دکھایا کہ باوجود ٹیکا نہ کرانے کے ہزار ہا کی جماعت میں سے شاذ و نادر کے طور پر ہی کوئی کیس جماعت میں ہوا۔ظاہر ہے کہ یہ ایک کھلا کھلا معجزہ تھا۔جو لکھوکھا مخلوق خدا کے مشاہدہ میں آیا۔چنانچہ اس کا اس قدر زبر دست اثر ہوا کہ گاؤں کے گاؤں احمدی ہو گئے۔بعض اوقات کئی کئی سو افراد کی طرف سے روزانہ بیعت کے خطوط آتے تھے اور ان ایام میں آپ کی تعلیم جسے آپ نے کشتی نوح میں درج کیا۔ایک آسمانی ٹیکہ ثابت ہوئی۔ے کشتی نوح صفحه ۲۴ کشتی نوح صفحه ۱۲ ، ۱۳ ،۱۲