حیات طیبہ

by Other Authors

Page 230 of 492

حیات طیبہ — Page 230

230 گے۔اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں۔اور تو بہ کرنا اور اپنی تمام کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔“ ۱؎ حضرت اقدس کے اس چیلنج کو آج ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔حضرات علماء نے ہزار ہا کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد حیات مسیح کے مسئلہ پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں لیکن کسی صاحب کو آج تک یہ توفیق نہیں ہو سکی کہ حضور کے اس چیلنج کو قبول کر کے کوئی ایسی حدیث پیش کرتے جس میں جسم عنصری کے ساتھ حضرت مسیح کے آسمان پر جانے اور اُترنے کا ذکر ہوتا۔پنجاب میں طاعون پھیلنے کی پیشگوئی ۲ فروری ۱۸۹۸ء کو آپ نے خواب میں دیکھا کہ: خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں میں نے لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے آپ نے اسی روز ایک اشتہار شائع فرمایا اور حضرات علماء کے فتووں کے خلاف لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ طاعون کے ایام میں اپنی بستی سے باہر کھلے میدان میں قیام کرنا تعلیم اسلام کی رو سے منع نہیں ہے۔بلکہ حفظانِ صحت کے اصول کے لحاظ سے مفید ہے۔البتہ طاعون زدہ بستی کو چھوڑ کر دوسری بستی میں جانا منع ہے کہ اس سے اور بستیوں میں بھی طاعون پھیل جانے کا خدشہ ہے۔اس اشتہار کا نکلنا تھا کہ مکذبین اور مکفرین کو استہزاء کا ایک اور موقعہ ہاتھ آ گیا کیونکہ جس وقت حضور نے اشتہار شائع فرما یا اس وقت پنجاب میں طاعون کا نام ونشان بھی نہ تھا۔اخبارات نے بھی ہنسی اڑائی۔چنانچہ پیسہ اخبار نے جو اس وقت لاہور کے چوٹی کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا لکھا کہ: مرزا اسی طرح لوگوں کو ڈرایا کرتا ہے۔دیکھ لینا۔خود اسی کو طاعون ہو گا۔“ آخر آپ کی پیشگوئی کے مطابق اگلے ہی جاڑے میں جالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اور یہ بیماری اس قدر پھیلی کہ گورنمنٹ کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔قادیان میں بھی انسداد طاعون کے لئے ایک جلسہ کیا گیا جس میں گورنمنٹ کی احتیاطی تدابیر کو سراہا گیا۔طاعون زدہ مریضوں کے لئے حضور نے اه کتاب البریہ صفحہ ۱۹۲۔حاشیہ